Main Icon

باب فیصلوں میں عمل کرنا اور ان سے ڈرنا - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 3733

حاکم اور قاضی بننے کا بیان - جلد 5

حدیث مبارکہ

عَنْ أَبِيْ هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "مَنْ جُعِلَ قَاضِيًا بَيْنَ النَّاسِ فَقَدْ ذُبحَ بِغَيْرِ سِكِّيْنٍ". رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالتِّرْمِذِيُّ وَأَبُوْ دَاوُدَ وَابْنُ مَاجَهْ.

عن أبي هريرة قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "من جعل قاضيا بين الناس فقد ذبح بغير سكين". رواه أحمد والترمذي وأبو داود وابن ماجه.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسولصلی اللہ علیہ و سلم نے کہ جو لوگوں کے درمیان قاضی بنایا گیا ۱؎تو وہ بغیر چھری ذبح کردیا گیا۲؎(احمد،ترمذی،ابوداؤد،ابن ماجہ)

شرح حدیث

۱؎اس طرح کہ اس نے کوشش و جانفشانی کرکے سلطان سے منصب قضا حاصل کیا،بڑی تنخواہ،عزت ورشوت وغیرہ حاصل کرنے کے لیے یہ شرح خیال میں رہے۔
۲
؎چھری سے ذبح کردینے میں جان آسانی سے اور جلد نکل جاتی ہے،بغیر چھری مارنے میں جیسے گلا گھونٹ کر،ڈبوکر،جلاکر،کھانا پانی بند کرکے ان میں جان بڑی مصیبت سے اور بہت دیر میں نکلتی ہے،ایسا قاضی بدن میں موٹا ہوجاتا ہے مگر دین اس طرح بربادکرلیتا ہے کہ اس کی سزا دنیا میں بھی پاتا ہے اور آخرت میں بھی بہت دراز کیونکہ ایسا قاضی ظلم،رشوت،حق تلفی وغیرہ ضرور کرتا ہے جس سے دنیا اس پر لعنت کرتی ہےرسول ناراض ہوتے ہیں،فرعون،حجاج یزید وغیرہ کی مثالیں موجود ہیں۔اس حدیث کی بنا پر حضرت امام ابوحنیفہ رحمۃعلیہ نے جیل میں مرجانا قبول فرمالیا مگر قضا قبول نہ فرمائی،رضی اللہ عنہ۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 5 , حدیث نمبر: 3733