Main Icon

باب : پانیوں کے احکام کا باب - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 488

پاکی کی کتاب - جلد 1

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِيْ سَعِيْدٍ الْخُدْرِيِّ: أَنَّ رَسُوْلَ اللهِ-صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُئِلَ عَنِ الْحِيَاضِ الَّتِيْ بَيْنَ مَكَّةَ وَالْمَدِيْنَةِ تَرِدُهَا السِّبَاعُ وَالْكِلَابُ وَالْحُمُرُ عَنِ الطُّهْرِ مِنْهَا،فَقَالَ: "لَهَا مَا حَمَلَتْ فِيْ بُطُونِهَا، وَلَنَا مَا غَبَرَ طَهُورٌ". رَوَاهُ ابْنُ مَاجَهْ

وعن أبي سعيد الخدري: أن رسول الله-صلى الله عليه وسلم سئل عن الحياض التي بين مكة والمدينة تردها السباع والكلاب والحمر عن الطهر منها،فقال: "لها ما حملت في بطونها، ولنا ما غبر طهور". رواه ابن ماجه

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابوسعیدخدری سے کہ رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم سے ان حوضوں کےمتعلق پوچھا گیاجو مکہ اورمدینہ کے درمیان ہیں جن پر درندے کتے اور گدھے سب آتے ہیں ان سے وضو کرنا کیسا فرمایا کہ وہ جو اپنے پیٹوں میں لے گئے وہ ان کا جو بچا وہ ہمارا وہ ہمارے لئے پاک کن ہے ۱؎(ابن ماجہ)

شرح حدیث

۱∞؎یہ حدیث گزشتہ کی تفسیر ہے،یعنی جب پانی زیادہ ہو تو درندوں کے پینے سے ناپاک نہ ہوگا۔خیال رہے کہ ان احادیث میں ان حوضوں کی مقدار کا ذکر نہیں۔ہمارے امام صاحب کے ہاں سو۱۰۰ہاتھ مربع پانی کثیر ہے،جس کی دلیل بیر"بالوعہ" کا مسئلہ ہے۔اور حضورصلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کا یہ فرمان ہے کہ ایک کنوئیں کا حریم دس۱۰ہاتھ ہے کہ اس حد میں دوسراکنواں نہ کھوداجائے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 1 , حدیث نمبر: 488