Main Icon

باب : پانیوں کے احکام کا باب - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 482

پاکی کی کتاب - جلد 1

حدیث مبارکہ

وَعَنْ كَبْشَةَ بِنْتِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ وَكَانَتْ تَحْتَ ابْنِ أَبِيْ قَتَادَةَ: أَنَّ أَبَا قَتَادَةَ دَخَلَ عَلَيْهَا، فَسَكَبَتْ لَهٗ وَضُوءًا، فَجَاءَتْ هِرَّةٌ تَشْرَبُ مِنْهُ، فَأَصْغٰى لَهَا الْإِنَاءَ حَتّٰى شَرِبَتْ، قَالَتْ كَبْشَةُ: فَرَآنِيْ أَنْظُرُ إِلَيْهِ، فَقَالَ: أَتَعْجَبِيْنَ يَا ابْنَةَ أَخِيْ؟ قَالَتْ: فَقُلْتُ: نَعَمْ، فَقَالَ: إِنَّ رَسُوْلَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-قَالَ:"إِنَّهَا لَيْسَتْ بِنَجَسٍ، إِنَّهَا مِنَ الطَّوَّافِيْنَ عَلَيْكُمْ أَوِ الطَّوَّافَاتِ". رَوَاهُ مَالِكٌ وَأَحْمَدُ وَالتِّرْمِذِيُّ وَأَبُوْ دَاوُدَ وَالنَّسَائِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ وَالدَّارِمِيُّ.

وعن كبشة بنت كعب بن مالك وكانت تحت ابن أبي قتادة: أن أبا قتادة دخل عليها، فسكبت له وضوءا، فجاءت هرة تشرب منه، فأصغى لها الإناء حتى شربت، قالت كبشة: فرآني أنظر إليه، فقال: أتعجبين يا ابنة أخي؟ قالت: فقلت: نعم، فقال: إن رسول الله صلى الله عليه وسلم-قال:"إنها ليست بنجس، إنها من الطوافين عليكم أو الطوافات". رواه مالك وأحمد والترمذي وأبو داود والنسائي وابن ماجه والدارمي.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت کبشہ بنت کعب ابن مالک سے ۱؎آپ ابوقتادہ کے فرزند کی بیوی تھیں۔ابو قتادہ ان کے پاس آئے ۲؎تو انہوں نے ابوقتادہ کے لیئے وضو کا پانی انڈیلا بلی آکر اس سے پینے لگی آپ نے اس کے لیئے برتن جھکادیاحتی کہ اس نے پی لیاکبشہ فرماتی ہیں کہ مجھے ابوقتادہ نے اپنی طرف دیکھتے ہوئے ملاحظہ کیا تو بولے بھتیجی کیا تم تعجب کرتی ہو بولیں ہاں تو فرمایا کہ رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ بلی نجس نہیں وہ تو تم پر پھرنے والے یا پھرنے والیوں میں سے ہے۳؎(مالک،احمد،ترمذی،ابو داؤد، نسائی، ا بن ماجہ،دارمی)

شرح حدیث

۱∞؎آپ خود بھی صحابیہ ہیں،آپ کے والد کعب ابن مالک بھی صحابی ہیں،جن کی توبہ کا واقعہ مشہور ہے،جن کے بارے میں سورۂ توبہ کی آیات اتری ہیں،عبداللہ ابن ابی قتادہ کی زوجہ ہیں۔
۲
؎آپ کا نام حارث ابن ربیع ہے،انصاری ہیں،مشہورشاہ سوار ہیں،آپ کے بیٹے کا نام عبد الله ہے۔
۳
؎اس حدیث سے بعض علماء نے اس پر دلیل پکڑی کہ بلی کا جوٹھا نہ تو ناپاک ہے نہ مکروہ اس سے بلا کراہت وضو جائز ہے۔ہمارے امام صاحب کے ہاں اگر بلی چوہا نجاست کھاکربغیر منہ صاف کئے برتن میں ڈال دے تو پانی بھی نجس اور برتن بھی گندا۔اوراگرمنہ صاف کرکے پانی پی جائے تو وہ پانی مکروہ ہے اور اس سے وضو کرنا مکروہ تنزیہی۔امام صاحب کا قول قوی ہے۔اوران علماءکا اس حدیث سے استنباط ضعیف کیونکہ یہ حضرت ابو قتادہ کا اجتہاد ہے حضور نے صرف یہ فرمایاکوئی نجس نہیں یعنی اس کا جسم ناپاک نہیں اس میں یہ کہاں ہے کہ اس کا لعاب اور جوٹھا بھی بالکل پاک ہے۔دیکھو کتے کا سوکھا جسم نجس نہیں مگر اس کا جوٹھا نجس ہے۔طحاوی شریف نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ حضور فرماتے ہیں جب بلی برتن چاٹ جائے تو اسے ایک یا دو باردھوؤ،نیز اسی طحاوی میں ہے کہ سیدنا ابن عمر کتے،بلی اورگدھے کے جوٹھے سے وضو نہیں کرتے تھے،بلکہ اس سے منع فرماتے تھے۔اس کے متعلق اور بہت سی روایات طحاوی میں منقول ہیں۔نیز جس کا گوشت ناپاک اور حرام ہو اس کا جوٹھا بھی پاک نہ ہوگا،بلی کاگوشت ناپاک اور حرام ہے لہذا اس کا جوٹھاناپاک ہونا چاہیئے تھا مگر چونکہ یہ گھروں میں آتی جاتی ہے،نیز نجاستوں سے پرہیز نہیں کرتی لہذا جوٹھا مکروہ ہے جیسے چھوٹےبچے جونجاست سے پرہیز نہ کرسکیں اگر وہ پانی میں ہاتھ ڈال دیں تو پانی مکروہ ہوتا ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 1 , حدیث نمبر: 482