Main Icon

باب : پانیوں کے احکام کا باب - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 487

پاکی کی کتاب - جلد 1

حدیث مبارکہ

وَزَادَ رَزِيْنٌ قَالَ: زَادَ بَعْضُ الرُّوَاةِ فِيْ قَوْلِ عُمَرَ: وَإِنِّيْ سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: "لَهَا مَا أَخَذَتْ فِيْ بُطُوْنِهَا، وَمَا بَقِيَ فَهُوَ لَنَا طَهُوْرٌ وَشَرَابٌ".

وزاد رزين قال: زاد بعض الرواة في قول عمر: وإني سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: "لها ما أخذت في بطونها، وما بقي فهو لنا طهور وشراب".

حدیث ترجمہ

اور رزین نے یہ بھی زیادہ کیا کہ کہا کہ بعض راویوں نے حضرت عمر کے فرمان میں یہ بڑھایا کہ میں نے رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا کہ جو درندے اپنے پیٹوں میں لے گئے وہ ان کا اور جو بچ رہا وہ ہماراپانی بھی ہے اورطہارت بھی۱؎

شرح حدیث

۱؎اس جملے میں بھی آب کثیر ہی مراد ہے۔لہذا یہ حدیث ہماری دلیل ہے نہ کہ شوافع کی۔امام شافعی فرماتے ہیں کہ یہ حدیث مطلق پانی کے لئے ہے تھوڑا ہو یا بہت مگر یہ توجیہ اگلی آنے والی حدیث کے خلاف ہے۔ نیز فصل ثانی کے شروع میں گزر گیا کہ جب پانی دو قلے ہو تو درندوں کے پینے سے ناپاک نہ ہوگا اگر درندوں کا جھوٹاپاک ہے تو وہاں دوقلوں کی قیدکیوں ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 1 , حدیث نمبر: 487