Main Icon

باب : پانیوں کے احکام کا باب - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 481

پاکی کی کتاب - جلد 1

حدیث مبارکہ

وَصَحَّ عَنْ عَلْقَمَةَ عَنْ عَبْدِ اللّٰهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: لَمْ أَكُنْ لَيْلَةَ الْجِنِّ مَعَ رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ.

وصح عن علقمة عن عبد الله بن مسعود قال: لم أكن ليلة الجن مع رسول الله صلى الله عليه وسلم. رواه مسلم.

حدیث ترجمہ

حضرت علقمہ بروایت صحیح حضرت عبد الله ابن مسعود سے نقل ہے فرماتے ہیں میں جنات کی رات حضور کے ساتھ تھا ہی نہیں٥؎(مسلم)

شرح حدیث

٥؎خیال رہے کہلیلۃ الجنچھ ہیں:ایک باربقیع الغرقد میں جنات کو تبلیغ اسلام کی اس میں حضرت ابن مسعود حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے،دوبار مکہ معظمہ میں ایک بارمدینہ طیبہ میں زبیر ابن عوام ہمراہ تھے۔لہذا علقمہ کی یہ روایت بھی درست ہے کہ ابن مسعود ہمراہ نہ تھے،اور وہ بھی درست ہے کہ ہمراہ تھے اور نبیذ کا واقع پیش آیا۔یا علقمہ کی روایت کا یہ مطلب ہے کہ حضرت ابن مسعود "لیلۃ الجن"میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تبلیغ کے وقت نہ تھے کیونکہ حضور ان کو دور چھوڑ گئے تھے اور آپ کے اردگرد حصار کے لئے گول خط کھینچ کر فرما گئے تھے کہ اس سے آگے نہ نکلنا جیسا کہ دوسری روایات میں ہے،اسی سے صوفیائے کرام حصار کے مسائل مستنبط کرتے ہیں۔لہذا حضرت علقمہ کی یہ حدیث اس دوسری حدیث کے خلاف نہیں۔(مرقاۃ و اشعۃ)خیال رہے کہ کھجور کے نبیذ سے وضوجائزہونا خلاف قیاس ہے کیونکہ نبیذ مطلق پانی نہیں اور وضو صرف مطلق پانی سے ہی ہوسکتا ہے مگرچونکہ حدیث پاک میں واردہوگیالہذا سواء کھجور کی نبیذ کے اور کسی نبیذ سے وضو جائز نہیں جیسے کشمش وغیرہ کا نبیذ۔اس سے وہ لوگ عبرت پکڑیں جو کہتے ہیں کہ امام اعظم حدیث کے مقابل قیاس پرعمل کرتے ہیں۔نعوذ با ﷲ!یہ بھی خیال رہے کہ کھجور کے نبیذ سے وضو جب ہی درست ہے جب کہ گاڑھا نہ ہو پانی کے اجزاء غالب ہوں اگر کھجور کے اجزاء غالب ہوگئے ہوں اورپانی گاڑھا پڑ گیاہوتو وضو جائزنہیں،تیمم کیا جائے۔اوراگر اس غلبہ میں شک ہو تو وضو بھی کرے اورتیمم بھی۔لہذا امام صاحب سے جو مروی ہے کہ آپ نے کبھی تو نبیذسے وضو کا حکم دیا،کبھی وضو سے منع فرمایا،تیمم کا حکم دیا اورکبھی دونوں کا،یہ مختلف حالات میں ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 1 , حدیث نمبر: 481