Main Icon

باب : پانیوں کے احکام کا باب - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 483

پاکی کی کتاب - جلد 1

حدیث مبارکہ

وَعَن دَاوُدَ بْنِ صَالِحِ بْنِ دِيْنَارٍ عَنْ أُمِّهٖ أَنَّ مَوْلَاتَهَا أَرْسَلَتْهَا بِهَرِيْسَةٍ إِلَى عَائِشَةَ، قَالَتْ: فَوَجَدْتُهَا تُصَلِّيْ فَأَشَارَتْ إِلَيَّ أَنْ ضَعِيْهَا، فَجَاءَتْ هِرَّةٌ فَأَكَلَتْ مِنْهَا، فَلَمَّا انْصَرَفَتْ عَائِشَةُ مِنْ صَلَاتِهَا أَكَلَتْ مِنْ حَيْثُ أَكَلَتِ الْهِرَّةُ، فَقَالَتْ: إِنَّ رَسُوْلَ اللّٰهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "إِنَّهَا لَيْسَتْ بِنَجَسٍ إِنَّها مِنَ الطَّوَّافِيْنَ عَلَيْكُمْ". وَإِنِّيْ رَأَيْتُ رَسُوْلَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَوَضَّأُ بِفَضْلِهَا. رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ.

وعن داود بن صالح بن دينار عن أمه أن مولاتها أرسلتها بهريسة إلى عائشة، قالت: فوجدتها تصلي فأشارت إلي أن ضعيها، فجاءت هرة فأكلت منها، فلما انصرفت عائشة من صلاتها أكلت من حيث أكلت الهرة، فقالت: إن رسول الله -صلى الله عليه وسلم قال: "إنها ليست بنجس إنها من الطوافين عليكم". وإني رأيت رسول الله صلى الله عليه وسلم يتوضأ بفضلها. رواه أبو داود.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابوداؤد ابن صالح ابن دینار سے وہ اپنی والدہ سے راوی کہ ان کی مالکہ نے انہیں ہریسہ دے کر حضرت عائشہ کے پاس بھیجا ۱؎میں نے آپ کو نماز پڑھتے پایا مجھے اشارہ کیا کہ رکھ دو۲؎ایک بلی آئی جو اس میں سے کھاگئی جب حضرت عائشہ نماز سے فارغ ہوئیں تو آپ نے وہاں سے ہی کھایا جہاں سے بلی نے کھایا تھا۔فرمانے لگیں رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ بلی نجس نہیں وہ تو تم پر گھومنے والوں سے ہے۳؎اور میں نے رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ بلی کے بچے ہوئے پانی سے وضو کرتے تھے۴؎(ابوداؤد)

شرح حدیث

۱∞؎داؤد ابن صالح مدنی ہیں،جلیل القدر تابعی ہیں،ابو قتادہ انصاری کے آزادکردہ غلام ہیں،آپ کی والدہ بھی کسی کی آزاد کردہ لونڈی تھیں۔ہر یسہ ہرس سے بنا بمعنی سخت کوٹنا عرب کا مشہور حلوہ ہے۔
۲
؎انگلی سے اشارہ کیایا سر کی حرکت سے نماز میں بوقت ضرورت اتنا ہلکا سا اشارہ جائز ہے۔
۳
؎اس میں بھی حضرت عائشہ صدیقہ کا اجتہاد ہے،حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے بلی کے جسم کو پاک فرمایا،لعاب یا جوٹھے کا ذکر نہیں کیا۔
۴
؎یہ جملہ امام اعظم رحمۃ الله علیہ کے خلاف نہیں کیونکہ اس سے وضو صرف مکروہ تنزیہی ہے۔حضور نے بیان جواز کے لیے کیا اورممکن ہے کہ دوسرا پانی نہ ہونے پر اس سے وضو کیا گیا ہو۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 1 , حدیث نمبر: 483