Main Icon

باب : پانیوں کے احکام کا باب - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 476

پاکی کی کتاب - جلد 1

حدیث مبارکہ

وَعَنِ السَّائِبِ بْنِ يَزِيْدٍ قَالَ: ذَهَبَتْ بِيْ خَالَتِيْ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللّٰهِ! إِنَّ ابْنَ أُخْتِيْ وَجِعٌ، فَمَسَحَ رَأْسِيْ، وَدَعَا لِيْ بِالْبَرَكَةِ، ثُمَّ تَوَضَّأَ،فَشَرِبْتُ مِنْ وَضُوئِهٖ، ثُمَّ قُمْتُ خَلْفَ ظَهْرِهِ، فَنَظَرْتُ إِلَى خَاتَمِ النُّبُوَّةِ بَيْنَ كَتِفَيْهِ مِثْلَ زِرِّ الْحَجَلَةِ. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

وعن السائب بن يزيد قال: ذهبت بي خالتي إلى النبي صلى الله عليه وسلم فقالت: يا رسول الله! إن ابن أختي وجع، فمسح رأسي، ودعا لي بالبركة، ثم توضأ،فشربت من وضوئه، ثم قمت خلف ظهره، فنظرت إلى خاتم النبوة بين كتفيه مثل زر الحجلة. متفق عليه.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت سائب ابن یزید سے ۱؎فرمایامجھے میری خالہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت اقدس میں لے گئیں عرض کیایارسول الله میرا بھانجا بیمار ہے آپ نے میرے سر پر ہاتھ پھیرا اور میرے لیئے دعائے برکت کی ۲؎پھر وضو فرمایا میں نے وضو کا پانی پیا۳؎پھر میں آپ کے پس پشت کھڑا ہوا تو میں نے مہر نبوت دیکھی جو آپ کے کندھوں کے درمیان مسہری کی گھنڈی کی طرح تھی۴؎(مسلم،بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎آپ ازدی ہیں،خذلی، ۲ھمیں پیدا ہوئے،اپنے والد کے ساتھ حجۃ الوداع میں شریک ہوئے،اس وقت سات سال کے تھے،نوعمر صحابی ہیں،عہد فاروقی میں بازار مدینہ کے حاکم تھے۔
۲
؎غالبًا آپ کے سر میں درد ہی تھا جوحضورصلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ مبارک کی برکت سے جاتارہا اس ہاتھ کی برکت یہ ہوئی کہ حضرت سائب کی عمر سو۱۰۰سال ہوئی لیکن نہ کوئی بال سفید ہوا اور نہ دانت گرا۔(مرقاۃ)اس سے معلوم ہوا کہ بیماروں کو بزرگوں کے پاس دم درود کے لیے لے جانا اور بزرگوں کا تکلیف کی جگہ ہاتھ پھیرنا سنت سے ثابت ہے۔
۳
؎فضالہ شریف(بچاہوا پانی)یا غسالہ(دھوون شریف) دوسرے معنی زیادہ ظاہر ہیں۔صحابہ کرام اس غسالہ شریف کو حاصل کرنے کے لئے لڑتے تھے۔خیال رہے کہ امام اعظم رحمۃ اللہ علیہ کے نزدیک وضو یا غسل کا غسالہ نجس ہے مگر ہمارا غسالہ نہ کہ حضور کا،وہ تو تبرک اورنور ہے حتی کہ حضورصلی اللہ علیہ وسلم کے فضلات شریف امت کے لئے پاک ہیں۔(مرقاۃ و اشعۃ)
۴
؎مہر نبوت حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی گردن کے نیچے دوکندھوں کے درمیان ایک پارۂ گوشت تھا جس پر کچھ تل تھے۔کبوتری کے انڈے یا مسہری کی گھنڈی کے برابر پارۂ گوشت نہایت چمکیلا اور نورانی تھا،تل سیاہ آس پاس بال،ان کے اجتما ع سے یہ جگہ نہایت بھلی معلوم ہوتی تھی نیچے سے دیکھو تو پڑھنے میں آتا تھا "اﷲ وَحْدَہٗ لَاشَرِیْكَ لَہٗ"اوپر سے دیکھو تو پڑھاجاتاہے"تَوَجَّہَ حَیْثُ کُنْتَ فَاِنَّكَ مَنْصُورٌ"اسے مہرنبوت اس لیے کہتے تھے کہ گزشتہ آسمانی کتب میں اس مہر کو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کیخاتم النبیّینہونے کی علامت قرار دیا گیا تھا وفات کے وقت یہ مہر شریف غائب ہوگئی تھی۔اس میں اختلاف ہے کہ بوقت ولادت موجود تھی یا نہیں۔بعض نے فرمایا کہ شق صدر کے بعد فرشتوں نے جو ٹانکے لگائے تھے ان سے یہ مہر پیدا ہوگئی تھی۔صحیح یہ ہے کہ بوقت ولادت اصل مہرموجود تھی مگر اس کا ابھار ان ٹانکوں کے بعدہوا۔ان شاءاﷲاس کی زیادہ تحقیق آخر کتاب میں حضورصلی اللہ علیہ وسلم کے فضائل کے بیان میں کی جائے گی۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 1 , حدیث نمبر: 476