Main Icon

باب : پانیوں کے احکام کا باب - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 486

پاکی کی کتاب - جلد 1

حدیث مبارکہ

عَن يَحْيَى بْنِ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ قَالَ: إِنَّ عُمَرَ خَرَجَ فِيْ رَكْبٍ فِيْهِمْ عَمْرُو بْنُ الْعَاصِ حَتّٰى وَرَدُوْا حَوْضًا، فَقَالَ عَمْرٌو: يَا صَاحِبَ الْحَوْضِ هَلْ تَرِدُ حَوْضَكَ السِّبَاعُ؟ فَقَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ: يَا صَاحِبَ الْحَوْضِ لَا تُخْبِرْنَا، فَإِنَّا نَرِدُ عَلَى السِّبَاعِ وَتَرِدُ عَلَيْنَا. رَوَاهُ مَالِكٌ.

عن يحيى بن عبد الرحمن قال: إن عمر خرج في ركب فيهم عمرو بن العاص حتى وردوا حوضا، فقال عمرو: يا صاحب الحوض هل ترد حوضك السباع؟ فقال عمر بن الخطاب: يا صاحب الحوض لا تخبرنا، فإنا نرد على السباع وترد علينا. رواه مالك.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت یحیی ابن عبدالرحمان سے فرماتے ہیں کہ حضرت عمر اس قافلہ میں تشریف لے گئے جن میں حضرت عمرو ابن عاص تھے حتی کہ ایک حوض پر پہنچے تو عمرو نے کہا اے حوض والے کیا تیرے حوض پر درندے ہوتے ہیں؟۱؎تو حضرت عمر ابن خطاب نے فرمایا اے حوض والے نہ بتانا کیونکہ ہم درندوں پر اور درندے ہم پر آتے ہیں ۲؎(مالک)

شرح حدیث

۱∞؎یعنی اگر درندے اس سے پانی پیتے ہوں تو ہم اس سے نہ وضو و غسل کریں اور نہ پیئیں۔انہیں آب قلیل و کثیر کا فرق معلوم نہ تھا ۔
۲
؎یعنی چونکہ یہ پانی کثیر ہے لہذا کسی جانور کے پی جانےسے نجس نہیں ہوتا اورکسی گندگی کے پڑ جانے سے گندا نہیں ہوتا،تاوقتیکہ پانی کی بو یا مزا اور رنگ گندگی کی وجہ سے نہ بدلے۔یہ حدیث گزشتہ حدیث جابر کی تفسیر ہے،اور امام ابوحنیفہ رحمۃعلیہ کی قوی دلیل ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 1 , حدیث نمبر: 486