Main Icon

باب : نہانے کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 450

پاکی کی کتاب - جلد 1

حدیث مبارکہ

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: كَانَتِ الصَّلَاةُ خَمْسِيْنَ، وَالْغُسْلُ مِنَ الْجَنَابَةِ سَبْعَ مَرَّاتٍ، وَغَسْلُ الْبَوْلِ مِنَ الثَّوْبِ سَبْعَ مَرَّاتٍ، فَلَمْ يَزَلْ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْأَلُ حَتّٰى جُعِلَتِ الصَّلَاةُ خَمْسًا، وَغُسْلُ الْجَنَابَة مَرَّةً، وَغَسْلُ الثَّوْبِ مِنَ الْبَوْلِ مَرَّةً رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ.

وعن ابن عمر قال: كانت الصلاة خمسين، والغسل من الجنابة سبع مرات، وغسل البول من الثوب سبع مرات، فلم يزل رسول الله صلى الله عليه وسلم يسأل حتى جعلت الصلاة خمسا، وغسل الجنابة مرة، وغسل الثوب من البول مرة رواه أبو داود.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابن عمر سے فرماتے ہیں کہ نمازیں پچاس تھیں اور جنابت کا غسل سات بار اور کپڑے سے پیشاب دھونا سات بار ۱؎پس حضور انور عرض کرتے رہے یہاں تک کہ نمازیں پانچ رہیں اورجنابت کا غسل ایک بار اور کپڑا پیشاب سے دھونا ایک بار۲؎(ابوداؤد)

شرح حدیث

۱∞؎یعنی معراج میں اولًایہ احکام دیئے گئے،پھر وہاں ہی منسوخ ہوگئے،جیسا کہ آگے آرہا ہے ان احکام پر عمل کسی نے نہیں کیا کیونکہ عمل سے پہلے نسخ جائز ہے۔
۲
؎ظاہر یہ ہے کہ یہ تینوں نسخ معراج کی رات ہی میں ہوگئے۔بعض نے فرمایا کہ شروع اسلام میں غسل اور کپڑا دھونا سات سات بار رہا جس پر کچھ روزعمل ہوا۔خیال رہے کہ امام شافعی کے نزدیک نجس کپڑا ایک بار دھونا ہی فرض ہے،جیسے وضو اور غسل میں ایک بار اعضاء دھونا فرض اور ہمارے امام صاحب کے یہاں جب کپڑے پر نجاست نظر نہ آتی ہو تو اتنا دھونا فرض ہے کہ اس کی پاکی کا گمان غالب ہوجائے اس طرح کہ تین بار دھوئے اور ہر دفعہ نچوڑے۔مگرصاحبین کے نزدیک بھی جوکپڑے نچوڑنے کے قابل نہ ہوں جیسے بہت موٹی دریاں یا نہایت کمزور نازک ریشمی کپڑے ان میں بھی اس قدر پانی بہنا کافی ہوتاہے،لہذا یہ حدیث امام صاحب کے خلاف نہیں۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 1 , حدیث نمبر: 450