Main Icon

باب : نہانے کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 443

پاکی کی کتاب - جلد 1

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِيْ هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: تَحْتَ كُلِّ شَعْرَةٍ جَنَابَةٌ، فَاغْسِلُوا الشَّعْرَ، وَأَنْقُوا الْبَشَرَةَ . رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ وَالتِّرْمِذِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ: هٰذَا حَدِيْثٌ غَرِيْبٌ وَالْحَارِثُ ابْنُ وَجِيْهٍ الرَّاوِيُّ وَهُوَ شَيْخٌ لَيْسَ بِذٰكَ

وعن أبي هريرة قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: تحت كل شعرة جنابة، فاغسلوا الشعر، وأنقوا البشرة . رواه أبو داود والترمذي وابن ماجه وقال الترمذي: هذا حديث غريب والحارث ابن وجيه الراوي وهو شيخ ليس بذك

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ ہر بال کے نیچے ناپاکی ہے لہذابال دھوؤ اور کھال صاف کرو ۱؎(ابوداؤد،ترمذی،ابن ماجہ)ترمذی کہتے ہیں یہ حدیث غریب ہے اور حارث ابن وجیہ راوی بوڑھے تھے اس مقام کے لائق نہیں ۲؎

شرح حدیث

۱∞؎اس حدیث سے دو مسئلےمعلوم ہوئے:ایک یہ کہ غسل میں جسم کے سارے بال بھگونا فرض ہیں اگر ایک بال بھی خشک رہ گیا تو غسل نہ ہوگا۔دوسرے یہ کہ اگر بدن پر خشک مٹی،گندھا ہوا آٹایاموم لگا رہ گیا جس کے نیچے پانی نہ پہنچا،تب بھی غسل نہ ہوگا لہذا اگر ناخنوں پر نیلی پالش لگی ہوئی ہے تو غسل درست نہیں،کیونکہ اس کے نیچے پانی نہ پہنچے گا۔خیال رہے کہ گھنی داڑھی وضو میں مانع نہیں،کیونکہ اس میں بڑی مشقت ہے،وضو روزانہ کئی بار ہوتا ہے،غسل میں اس کے نیچے پانی پہنچاناچاہیئے۔(مرقاۃ)
۲
؎یعنی وجہ بڑھاپے کے انکا حافظہ کمزور ہوگیا تھا،اس لئے انکی روایت چنداں قوی نہیں۔لفظ شیخ عدالت کی تعریف اورحافظہ کی جرح کے لیے آتاہے یہاں جرح کے لئے ہے جیساکہ اگلی عبارت سے ظاہر۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 1 , حدیث نمبر: 443