Main Icon

باب : نہانے کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 435

پاکی کی کتاب - جلد 1

حدیث مبارکہ

وَعَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهَا قَالَتْ: كَانَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا اغْتَسَلَ مِنَ الْجَنَابَةِ بَدَأَ فَغَسَلَ يَدَيْهِ، ثُمَّ يَتَوَضَّأُ كَمَا يَتَوَضَّأُ لِلصَّلَاةِ، ثُمَّ يُدْخِلُ أَصَابِعَهُ فِي الْمَاءِ فَيُخَلِّلُ بِهَا أُصُوْلَ شَعَرِهِ،ثمَّ يَصُبُّ عَلٰى رَأسِهٖ ثَلَاثَ غَرَفَاتٍ بِيَدَيْهِ، ثمَّ يُفِيْضُ المَاءَ عَلٰى جِلْدِهٖ كُلِّهٖ. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
وَفِيْ رِوَايَةٍ لِمُسْلِمٍ: يَبْدَأُ فَيَغْسِلُ يَدَيْهِ قَبْلَ أَنْ يُّدْخِلَهُمَا الْإِنَاءَ، ثُمَّ يُفْرِغُ بِيَمِيْنِهٖ عَلٰى شِمَالِهٖ فَيَغْسِلُ فَرْجَهٗ ثُمَّ يَتَوَضَّأُ.

وعن عائشة رضي الله عنها قالت: كان رسول الله صلى الله عليه وسلم إذا اغتسل من الجنابة بدأ فغسل يديه، ثم يتوضأ كما يتوضأ للصلاة، ثم يدخل أصابعه في الماء فيخلل بها أصول شعره،ثم يصب على رأسه ثلاث غرفات بيديه، ثم يفيض الماء على جلده كله. متفق عليه.
وفي رواية لمسلم: يبدأ فيغسل يديه قبل أن يدخلهما الإناء، ثم يفرغ بيمينه على شماله فيغسل فرجه ثم يتوضأ.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب جنابت کا غسل کرتے تو یوں شروع کرتے کہ پہلے دونوں ہاتھ دھوتے ۱؎پھر نماز کے وضو کی طرح وضو کرتے ۲؎پھر اپنی انگلیاں پانی میں ڈالتے تو ان سے بالوں کی جڑوں میں خلال کرتے پھر اپنے سر پر دونوں ہاتھوں سے تین چلو ڈالتے۔پھر اپنی تمام کھال پر پانی بہاتے ۳؎(مسلم،بخاری) اورمسلم کی روایت میں ہے کہ یوں شروع کرتے کہ برتن میں ڈالنے سے پہلے دونوں ہاتھ دھوتے پھر اپنے داہنے ہاتھ سے بائیں ہاتھ پر پانی ڈالتے پھر استنجاء کرتے پھروضو فرماتے ۴؎۔

شرح حدیث

۱∞؎خیال رہے کہ انبیاءکرام کو احتلام کبھی نہیں ہوتا جیسا کہ طبرانی کی روایت میں ہے ان کی جنابت صرف صحبت سے ہوتی ہے۔یہ ہاتھ کا دھونا وضو سے پہلے ہے کیونکہ وضو کا ذکر آگے آرہا ہے۔چونکہ اس زمانہ میں عمومًا بڑے برتن میں ہاتھ ڈال کر پانی لیا جاتا تھا،اس لئے یہاں ہاتھ دھوئے جاتے تھے،نیز ہاتھ میں گندگی کا بھی احتمال ہوتا ہے۔
۲
؎کہ اگرتختہ وغیرہ پر ہوتے تو پاؤں بھی دھولیتے اور اگر کچی زمین پر ہوتے تو پاؤں غسل کے بعد دھوتے۔
۳
؎زلفوں والے آدمی کے لئے اب بھی سنت ہے کہ پہلے زلفوں کا خلال کرے اور سرکو دھوئے،پھرتمام جسم کے ساتھ بھی سر پر پانی ڈالے۔
۴
؎اس سےمعلوم ہوا کہ غسل سے پہلے استنجا کرنا بھی سنت ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 1 , حدیث نمبر: 435