Main Icon

باب : نہانے کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 438

پاکی کی کتاب - جلد 1

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أُمِّ سَلَمَةَ قَالَتْ: قُلْتُ: يَا رَسُوْلَ اللّٰهِ إِنِّيْ امْرَأَةٌ أَشُدُّ ضَفْرَ رَأْسِيْ، أَفَانْقُضُهٗ لِغُسْلِ الْجَنَابَة؟ فَقَالَ: «لَا، إِنَّمَا يَكْفِيْكِ أَنْ تَحْثِيَ عَلٰى رَأْسِكِ ثَلَاثَ حَثَيَاتٍ،ثُمَّ تُفِيْضِيْنَ عَلَيْكِ الْمَاءَ فَتَطْهُرِيْنَ». رَوَاهُ مُسْلِمٌ

وعن أم سلمة قالت: قلت: يا رسول الله إني امرأة أشد ضفر رأسي، أفانقضه لغسل الجنابة؟ فقال: «لا، إنما يكفيك أن تحثي على رأسك ثلاث حثيات،ثم تفيضين عليك الماء فتطهرين». رواه مسلم

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ام سلمہ سے فرماتی ہیں میں نے عرض کیا یارسول الله صلی اللہ علیہ وسلم میں ایسی عورت ہوں جو اپنے سر کے بال گوندھتی ہوں تو کیا جنابت کے غسل کے لیئے انہیں کھولا کروں فرمایا نہیں تمہیں یہی کافی ہے کہ اپنے سر پر تین لپ پانی ڈال لیا کرو۔پھر اپنے پر پانی بہالیا کروتوپاک ہوجاؤ گی ۱؎(مسلم)

شرح حدیث

۱∞؎اسی بناء پرفقہاءفرماتے ہیں کہ عورت پرغسل میں سارے بال بھگونا فرض نہیں تمام کی جڑیں بھیگ جانا کافی ہیں۔اگر مرد کے بال ہوں تو پورے بھگونے پڑیں گے۔تین بار کی قید یقین حاصل کرنے کے لیے ہے ورنہ اگر ایک لپ سے ہی تمام جڑوں میں پانی پہنچ جائے تو کافی ہے۔اوراگرتین لپوں میں بھی نہ پہنچے تو ڈالنا ضروری ہے اور اگر اتنے سخت بال بندھے ہوں کہ بغیر کھولے ہوئے تمام کی جڑیں نہ بھیگ سکیں تو کھولنا ضروری ہیں۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 1 , حدیث نمبر: 438