Main Icon

باب : نہانے کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 449

پاکی کی کتاب - جلد 1

حدیث مبارکہ

وَعَن عَلِيٍّ قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ إِنِّيْ اغْتَسَلْتُ مِنَ الْجَنَابَةِ وَصَلَّيْتُ الْفَجْرَ، فَرَأَيْتُ قَدْرَ مَوْضعِ الظُّفُرِ لَمْ يُصِبْهُ الْمَاءُ،فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَوْ كُنْتَ مَسَحْتَ عَلَيْهِ بِيَدِكَ أَجْزَأَكَ . رَوَاهُ ابْنُ مَاجَهْ

وعن علي قال: جاء رجل إلى النبي صلى الله عليه وسلم فقال إني اغتسلت من الجنابة وصليت الفجر، فرأيت قدر موضع الظفر لم يصبه الماء،فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: لو كنت مسحت عليه بيدك أجزأك . رواه ابن ماجه

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت علی سے فرماتے ہیں کہ ایک شخص نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا عرض کیا میں نے جنابت سے غسل کیا اور فجر پڑھ لی۔پھر دیکھا کہ ناخن برابر جگہ کو پانی نہ پہنچا فرمایا رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم نے اگر تم اس جگہ ہاتھ پھیر لیتے تو کافی ہوتا ۱؎(ابن ماجہ)

شرح حدیث

۱∞؎یعنی اگرغسل کے وقت وہاں ہاتھ پھیرلیتے تو پانی بہہ جاتایاغسل کے بعدوضو وغیرہ کے وقت ہاتھ پھیر کر پانی بہا لیتے تو بھی کافی ہوتا،اب وہ جگہ دھوؤ اورنمازدوبارہ پڑھو۔حدیث کا مطلب یہ نہیں ہے کہ اس جگہ پر صرف مسح کافی تھا،پانی بہانے کی حاجت نہیں، کیونکہ غسل میں سارے جسم پر پانی بہانا فرض ہے۔اس حدیث سے معلوم ہوا کہ اگرغسل کا کوئی عضو سوکھا رہ گیا اوربہت دیر کے بعدپتا لگے تووہ دوبارہ غسل کرنا ضروری نہیں بلکہ صرف وہ جگہ دھودینا کافی ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 1 , حدیث نمبر: 449