Main Icon

باب : نہانے کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 437

پاکی کی کتاب - جلد 1

حدیث مبارکہ

وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: إِنَّ امْرَأَةً مِنَ الْأَنْصَارِ سَأَلَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مِنْ غُسْلِهَا مِنَ الْمَحِيْضِ فَأَمَرَهَا كَيْفَ تَغْتَسِلُ ثُمَّ قَالَ: خُذِيْ قِرْصَةً مِنْ مَسْكٍ فَتَطَهَّرِيْ بِهَا قَالَتْ: كَيْفَ أَتَطَهَّرُ بهَا ؟ فَقَالَ تَطَهَّرِيْ بهَا قَالَتْ: كَيْفَ أَتَطَهَّرُ بَها؟ قَالَ: سُبْحَانَ اللّٰه تَطَهَّرِيْ بِهَا فَاجْتَذَبْتُهَا إِلَيَّ فَقُلْتُ لَہَا: تَبْتَغِيْ بِهَا أَثَرَ الدَّمِ.
(مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

وعن عائشة قالت: إن امرأة من الأنصار سألت النبي صلى الله عليه وسلم: من غسلها من المحيض فأمرها كيف تغتسل ثم قال: خذي قرصة من مسك فتطهري بها قالت: كيف أتطهر بها ؟ فقال تطهري بها قالت: كيف أتطهر بها؟ قال: سبحان الله تطهري بها فاجتذبتها إلي فقلت لہا: تبتغي بها أثر الدم.
(متفق عليه)

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عائشہ سے کہ انصار کی ایک بی بی نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے حیض کے غسل کے بارے میں پوچھا تو آپ نے انہیں بتایا کہ یوں غسل کریں پھر فرمایا کہ مشک کا ٹکڑا لے کر اس سے پاک کرو بولیں اس سے کیسے پاکی کروں فرمایا اس سے پاکی کرو بولیں اس سے کیسے پاکی کرو فرمایاسبحان اﷲ !اس سے پاکی کرو ۱؎تو انہیں میں نے اپنی طرف کھینچ لیا اور کہا کہ خون کی جگہ ٹکڑا لگاؤ ۲؎(مسلم،بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎اس سے معلوم ہوا کہ خفیہ مسائل کے متعلق تعلیم اشاروں کنایوں سے چاہیئے،خصوصًا اجنبی عورتوں کے سامنے کہ ان بی بی صاحبہ کے بار بار پوچھنے پربھی حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اس جملہ کی وضاحت نہ فرمائی۔مقصد یہ تھا کہ غسل کرنے کے بعد مشک کا ٹکڑایامشک میں بھیگے ہوئے کپڑے کا ٹکڑا وہاں پھیر لیں جہاں خون پہنچتا ہے تاکہ خون کی بوجاتی رہے۔بعض نسخوں میںمُمَسَّكبھی ہے یعنی مشک میں بسا ہوا کپڑا۔
۲
؎سبحان اﷲ !اس سے حضرت عائشہ صدیقہ کی ذہانت معلوم ہوئی کیوں نہ ہو کہ مزاج شناس رسول ہیں،بڑی فقیہہ عالمہ ہیں۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 1 , حدیث نمبر: 437