Main Icon

باب : نہانے کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 441

پاکی کی کتاب - جلد 1

حدیث مبارکہ

عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: سُئِلَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الرَّجُلِ يَجِدُ الْبَلَلَ وَلَا يَذْكُرُ احْتِلَامًا قَالَ يَغْتَسِلُ وَعَنِ الرَّجُلِ الذی يَرٰى أَنَّهُ قَدِ احْتَلَمَ وَلم يَجِدُ بَلَلًا قَالَ: لَا غُسْلَ عَلَيْهِ قَالَتْ أُمُّ سُلَيْمٍ: هَلْ عَلٰى الْمَرْأَةِ تَرٰى ذٰلِكَ غُسْلٌ؟ قَالَ: نَعَمْ، إِنَّ النِّسَاءَ شَقَائِقُ الرِّجَالِ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُوْ دَاوُدَ، وَرَوَى الدَّارِمِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ إِلٰى قَوْلِهٖ: لَا غُسْلَ عَلَيْهِ.

عن عائشة قالت: سئل رسول الله صلى الله عليه وسلم عن الرجل يجد البلل ولا يذكر احتلاما قال يغتسل وعن الرجل الذی يرى أنه قد احتلم ولم يجد بللا قال: لا غسل عليه قالت أم سليم: هل على المرأة ترى ذلك غسل؟ قال: نعم، إن النساء شقائق الرجال. رواه الترمذي وأبو داود، وروى الدارمي وابن ماجه إلى قوله: لا غسل عليه.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عائشہ سے فرماتی ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس شخص کے بارے میں پوچھا گیا جو تری تو پائے اور خواب یاد نہ ہو فرمایا غسل کرے اور اس کے بارے میں پوچھا گیا جو خیال کرے کہ اسے احتلام ہوا ہے اور تری نہ پائے فرمایا اس پر غسل نہیں ۱؎ام سلیم نے عرض کیا کہ کیا عورت پر بھی غسل ہے جو یہ دیکھے فرمایا ہاں عورتیں مردوں کی مثل ہیں ۲؎اسے ترمذی اور ابوداؤد نے روایت کیا ا وردارمی اور ابن ماجہ نے "لَاغُسْلَ عَلَیْہ" تک روایت کی۔

شرح حدیث

۱؎کیونکہ احتلام میں منی کا نکلنا غسل واجب کرتا ہے خواب یاد ہو نہ ہو۔تری مطلق غسل واجب کردے گی اگرچہ مذی ہو کیونکہ کبھی پتلی منی مذی ہی محسوس ہوتی ہے،یہی ہمارا مذہب ہے،یہ حدیث ہماری دلیل ہے۔
۲
؎یعنی اکثر احکام عورتوں مردوں کے یکساں ہیں اسی لئے قرآن و حدیث میں مذکر کے صیغے استعمال ہوتے ہیں اور عورتیں اس میں داخل ہوتی ہیں۔شقائق جمع شقیقہ کی ہےبمعنی ٹکڑا و حصہ،اسی لئے بھائی کو شقیق کہا جاتا ہے۔حضرت حو ا آدم علیہ السلام کا جزو بدن تھیں لہذا عورتیں مردوں کا حصہ ہیں۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 1 , حدیث نمبر: 441