Main Icon

باب : نہانے کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 439

پاکی کی کتاب - جلد 1

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَوَضَّأُ بِالْمُدِّ وَيَغْتَسِلُ بِالصَّاعِ إِلٰى خَمْسَةِ أَمْدَادٍ
(مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ

وعن أنس قال: كان النبي صلى الله عليه وسلم يتوضأ بالمد ويغتسل بالصاع إلى خمسة أمداد
(متفق عليه

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت انس سے فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایک مد(دورطل)سے وضو کرتے تھے اور ایک صاع سے پانچ مد تک غسل فرماتے تھے ۱؎(بخاری،مسلم)

شرح حدیث

۱∞؎حنفیوں کے نزدیک مد دو رطل کا ہوتا ہے،اور ایک رطل چالیس تولہ کا،اور ایک صاع چار مد کا۔لہذا پاکستانی وزن سے ایک رطل نصف سیر کااورایک مد ایک سیراور صاع چار سیرلیکن مد اور رطل کی مقدار میں اختلاف ہے،نیز ہلکی چیز صاع میں کم آئے گی اور بھاری زیادہ،اس لئے احتیاط یہ ہے کہ فطرہ میں آدھا صاع گندم تقریبًا سوا دو سیر مانے جائیں یعنی ایک صاع میں پانی اندازًا چارسیراور گندم ساڑھے چار سیر سمائے گی۔خیال رہے کہ غسل اور وضو میں پانی مقرر نہیں۔سنت یہ ہے کہ وضو ایک سیر پانی سے کم نہ ہو اورغسل چار سیر سے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 1 , حدیث نمبر: 439