Main Icon

باب : نمازکے فضائل کاباب - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 638

نماز کا بیان - جلد 1

حدیث مبارکہ

وَعَنْ مَالِكٍ بَلَغَهُ أَنَّ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ وَعَبْدَ اللّٰهِ بْنَ عَبَّاسٍ كَانَا يَقُوْلَانِ: اَلصَّلَاةُ الْوُسْطٰى صَلَاةُ الصُّبْح. رَوَاهُ فِيْ "الْمُوَطَّأِ".

وعن مالك بلغه أن علي بن أبي طالب وعبد الله بن عباس كانا يقولان: الصلاة الوسطى صلاة الصبح. رواه في "الموطأ".

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت مالک سے انہیں خبرپہنچی کہ حضرت علی ابن ابن طالب اورعبداللہ ابن عباس فرماتے تھے کہ درمیانی نمازفجر کی نمازہے ۱؎(مؤطا)

شرح حدیث

۱∞؎ان بزرگوں کے نزدیک وسطی بمعنی افضل ہے جیسے "وَکَذٰلِکَ جَعَلْنٰکُمْ اُمَّۃً وَّسَطًا"یعنی چونکہ یہ نمازبہت وجہوں سے باقی نمازوں سے افضل ہے،لہذانماز وسطیٰ یہی ہے۔خیال رہے کہ علی مرتضی خود ہی حضور سے روایت کرچکے ہیں کہ نماز وسطٰی عصر ہے،یہاں فجر کو وسطی فرمانا دوسرے معنی سے ہے، لہذا آپ کے اس قول پرکوئی اعتراض نہیں ہوسکتا کہ حضرت شیرخدانے پہلے یہ فرمایا ہوپھرگزشتہ حدیث مرفوع سن کر اس سے رجوع کرلیا ہو۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 1 , حدیث نمبر: 638