Main Icon

باب : نمازکے فضائل کاباب - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 626

نماز کا بیان - جلد 1

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِيْ هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-: "يَتَعَاقَبُونَ فِيكُمْ مَلَائِكَةٌ بِاللَّيْلِ وَمَلَائِكَةٌ بِالنَّهَارِ، وَيَجْتَمِعُونَ فِيْ صَلَاةِ الْفَجْرِ وَصَلَاةِ الْعَصْرِ، ثُمَّ يَعْرُجُ الَّذِينَ بَاتُوْا فِيْكُمْ، فَيَسْأَلُهُمْ رَبُّهُمْ -وَهُوَ أَعْلَمُ بِهِمْ-: كَيْفَ تَرَكْتُمْ عِبَادِيْ؟ فيَقُوْلُوْنَ: تَرَكْنَاهُمْ وَهُمْ يُصَلُّوْنَ، وَأَتَيْنَاهُمْ وَهُمْ يُصَلُّوْنَ". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

وعن أبي هريرة قال: قال رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: "يتعاقبون فيكم ملائكة بالليل وملائكة بالنهار، ويجتمعون في صلاة الفجر وصلاة العصر، ثم يعرج الذين باتوا فيكم، فيسألهم ربهم -وهو أعلم بهم-: كيف تركتم عبادي؟ فيقولون: تركناهم وهم يصلون، وأتيناهم وهم يصلون". متفق عليه.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ تم میں رات اور دن کےفرشتے باری باری سے آتے ہیں اورفجراور عصرکی نماز وں میں جمع ہوجاتے ہیں ۱؎پھرجوتم میں رات گزاریں وہ چڑھ جاتے ہیں ۲؎ان سے ان کا رب پوچھتاہے حالانکہ وہ ان سے زیادہ جانتاہے کہ تم نے میرے بندوں کوکس حال میں چھوڑا ۳؎وہ کہتے ہیں کہ ہم نے انہیں نمازپڑھتے چھوڑا اورجب ہم ان کے پاس پہنچے تھے تب بھی وہ نمازپڑھ رہے تھے۴؎(مسلم،بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎یہاں فرشتوں سے مرادیاتو اعمال لکھنے والے دو فرشتے ہیں یا انسان کی حفاظت کرنے والے ساٹھ فرشتے۔ہر نابالغ کے ساتھ ساٹھ فرشتے رہتے ہیں اور بالغ کے ساتھ۶۲،اسی لئے نماز کے سلام اور دیگر سلاموں میں ان کی نیت کی جاتی ہے،ان ملائکہ کی ڈیوٹیاں بدلتی رہتی ہیں دن میں اور رات میں مگر فجروعصرمیں پچھلے فرشتے جانے نہیں پاتے کہ اگلے ڈیوٹی والے آجاتے ہیں تاکہ ہماری ابتداءوانتہا کے گواہ زیادہ ہوں۔
۲
؎اپنے ہیڈکوارٹرکی طرف جہاں ان کا مقام ہے۔
۳
؎یہ سوال یا تو ان فرشتوں کوگواہ بنانے کے لئے ہے یانمازوں کی عظمت ان کے دلوں میں قائم کرنے کے لئے کیونکہ انسان کی پیدائش کے وقت فرشتوں نے کہاتھا کہ اے رب تو فسادی اورخون ریزیاں کرنے والوں کو خلافت کیوں دے رہا ہے؟معلوم ہوا کہ پوچھنا بے علمی کی دلیل نہیں اگرحضور نے کسی سے کوئی بات پوچھی تو اس سے آپ کی بے علمی ثابت نہیں ہوتی۔
۴
؎اس کا مطلب یا تو یہ ہے کہ فرشتے نمازیوں کی پردہ پوشی کرتے ہیں کہ آس پاس کی نیکیوں کاذکراور درمیان کے گناہوں سے خاموشی یا یہ مطلب ہے کہ اے مولاجن بندوں کی ابتداءاورانتہا ایسی اعلی ہو ان کے درمیانی اعمال بھی اچھے ہوں گے،جس دکان کی بونی اچھی ہو اس میں ہمیشہ برکت ہی رہتی ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 1 , حدیث نمبر: 626