Main Icon

باب : نمازکے فضائل کاباب - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 637

نماز کا بیان - جلد 1

حدیث مبارکہ

وَعَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ قَالَ: كَانَ رَسُوْلُ اللّٰهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- يُصَلِّي الظُّهْرَ بِالْهَاجِرَةِ، وَلَمْ يَكُنْ يُصَلِّيْ صَلَاةً أَشَدَّ عَلٰى أَصْحَابِ رَسُولِ اللّٰهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- مِنْهَا، فَنَزَلَتْ حَافِظُوْا عَلَى الصَّلَوَاتِ وَالصَّلَاةِ الْوُسْطٰى وَقَالَ: إِنَّ قَبْلَهَا صَلَاتَيْنِ وَبَعْدَهَا صَلَاتَيْنِ. رَوَاهُ أَحْمَدُ وَأَبُوْ دَاوُدَ.

وعن زيد بن ثابت قال: كان رسول الله -صلى الله عليه وسلم- يصلي الظهر بالهاجرة، ولم يكن يصلي صلاة أشد على أصحاب رسول الله -صلى الله عليه وسلم- منها، فنزلت حافظوا على الصلوات والصلاة الوسطى وقال: إن قبلها صلاتين وبعدها صلاتين. رواه أحمد وأبو داود.

حدیث ترجمہ

ر وایت ہے زیدابن ثابت سے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نمازظہردوپہری میں پڑھتے تھے ۱؎اورحضورصلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ پہ کوئی نماز اس سے زیادہ دشوار نہ تھی تب یہ آیت اتری کہ ساری نمازوں پرخصوصًادرمیانی نماز پرپابندی کرو فرمایا اس سے پہلے دو نمازیں ہیں اوراس کے بعد بھی دو نمازیں ۲؎(احمدوابوداؤد)

شرح حدیث

۱∞؎یعنی جاڑوں میں اورگرمیوں میں پڑھتے ہوں تو کبھی کبھی بیان جواز کے لئے،کیونکہ گزشتہ احادیث میں گزر چکا کہ حضورسردیوں میں ظہر جلدی پڑھتے تھے اورگرمیوں میں دیرسے۔
۲
؎اس سے معلوم ہوا کہ "نمازوسطی"ظہرکی نمازہے یہ بھی ایک قول ہے،غالبًا حضرت ثابت یہ اپنے اجتہاد سے فرمارہے ہیں یعنی دن اور رات کی ایک ایک نمازظہر سے پہلے ہے عشاءوفجر،اور ایک ایک نمازظہر کے بعدعصرومغرب۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 1 , حدیث نمبر: 637