Main Icon

باب : نمازکے فضائل کاباب - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 628

نماز کا بیان - جلد 1

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-: "لَوْ يَعْلَمُ النَّاسُ مَا فِيْ النِّدَاءِ وَالصَّفِّ الأَوَّلِ، ثُمَّ لَمْ يَجِدُوْا إِلَّا أَنْ يَسْتَهِمُوْا عَلَيْهِ لَاسْتَهَمُوْا، وَلَوْ يَعْلَمُوْنَ مَا فِيْ التَّهْجيْرِ لَاسْتَبَقُوْا إِلَيْهِ، وَلَوْ يَعْلَمُوْنَ مَا فِيْ الْعَتَمَةِ وَالصُّبْحِ لأَتَوْهُمَا وَلَوْ حَبْوًا". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

وعن أبي هريرة قال: قال رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: "لو يعلم الناس ما في النداء والصف الأول، ثم لم يجدوا إلا أن يستهموا عليه لاستهموا، ولو يعلمون ما في التهجير لاستبقوا إليه، ولو يعلمون ما في العتمة والصبح لأتوهما ولو حبوا". متفق عليه.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اگرلوگ جان لیں کہ اذان اورپہلی صف میں کیا ثواب ہے ۱؎پھربغیر قرعہ ڈالے اسے نہ پاسکیں تو قرعہ ہی ڈالیں ۲؎اوراگر جانتے کہ دوپہری کی نمازمیں کیاثواب ہے تو اس کی طر ف دوڑکر آتے ۳؎اوراگرجانتے کہ عشاءاورفجر میں کیا ثواب ہے تو ان میں گھسٹتے ہوئے بھی پہنچتے ۴؎(مسلم،بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎اگرچہ ہم نے ان دونوں کے فضائل بہت بیان کردیئے،لیکن اس کے باوجودکما حقہ بیان نہیں ہوسکے،وہ تو دیکھ کرہی معلوم ہوں گے پتہ لگا کہ فی سبیل اللہ اذان وتکبیرکہنا اورنمازکی صف اول میں،خصوصًا امام کے پیچھے کھڑا ہونا بہت بہتر ہے جس کی بزرگی بیان نہیں ہوسکتی۔
۲
؎یعنی ہرشخص چاہے کہ یہ دونوں کام میں کروں تو ان میں جھگڑا پیدا ہو جس کا فیصلہ قرعہ سے ہو۔معلوم ہوا کہ نیکیوں میں جھگڑنابھی عبادت ہے اورقرعہ سے جھگڑاچکانامحبوب۔
۳
؎یعنی ظہروجمعہ کی نماز اگرچہ دیرمیں ہو مگر اس کے لئے جلدی پہنچنا کہ پہلی صفوں میں جگہ ملے بہت بہتر ہے،مدینہ پاک میں نماز ظہرکے لئے لوگ گیارہ بجے سے پہنچ جاتے ہیں خصوصًا جمعہ کے دن۔
۴
؎یعنی اگرپاؤں میں چلنے کی طاقت نہ ہوتی توچوتڑوں کے بل پہنچتے۔اس سے معلوم ہوا کہ معذور پراگرچہ مسجد کی حاضری واجب نہیں لیکن اگرپہنچ جائے تو ثواب پائے گا۔عشاءکو عتمہ فرمانا ممانعت سے پہلے ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 1 , حدیث نمبر: 628