Main Icon

باب : نمازکے فضائل کاباب - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 627

نماز کا بیان - جلد 1

حدیث مبارکہ

وَعَنْ جُنْدُبٍ الْقَسْرِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-: "مَنْ صَلَّى صَلَاةَ الصُّبْحِ فَهُوَ فِيْ ذِمَّةِ اللّٰهِ، فَلَا يَطْلُبَنَّكُمُ اللّٰهُ مِنْ ذِمَّتِهٖ بِشَيْءٍ، فَإِنَّهُ مَنْ يَطْلُبْهٗ مِنْ ذِمَّتِهٖ بِشَيْءٍ يُدْرِكْهٗ، ثُمَّ يَكُبُّهٗ عَلٰى وَجْهِهٖ فِيْ نَارِ جَهَنَّمَ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ. وَفِي بَعْضِ نُسَخِ "الْمَصَابِيْحِ" الْقُشَيْرِي بَدَلُ الْقَسْرِيِّ.

وعن جندب القسري قال: قال رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: "من صلى صلاة الصبح فهو في ذمة الله، فلا يطلبنكم الله من ذمته بشيء، فإنه من يطلبه من ذمته بشيء يدركه، ثم يكبه على وجهه في نار جهنم". رواه مسلم. وفي بعض نسخ "المصابيح" القشيري بدل القسري.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت جندب قسری سے فرماتے ہیں کہ فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ جوفجر کی نماز پڑھ لے وہ اللہ کی امان میں ہے ۱؎لہذا تم سےاللہ اپنی امان کے بارے میں کچھ مواخذہ نہ کرے۲؎کیونکہ اللہ تعالٰی جب کسی سے اپنے عہد کا مواخذہ کرے گا تو اسے پکڑلے گا پھر اسے اوندھے منہ دوزخ کی آگ میں ڈال دے گا(مسلم)اورمصابیح کے بعض نسخوں میں بجائے قسری کے قشیری ہے۔

شرح حدیث

۱∞؎یعنی فجرکی نماز پڑھنے والااللہ کی امان میں ایساہوتاہے جیسے ڈیوٹی کا سپاہی حکومت کی امان میں کہ اس کی بے حرمتی حکومت کامقابلہ ہے۔خیال رہے کہ کلمہ کی امان اورقسم کی ہے اورنماز کی امان اورقسم کی،لہذا احادیث میں تعارض نہیں۔
۲
؎یعنی ایسا نہ ہوکہ تم نمازی کوستاؤ اورقیامت میں سلطنت الہیہ کے باغی بن کرپکڑے جاؤ۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 1 , حدیث نمبر: 627