Main Icon

باب: چھینک اور جمائی کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 4744

اچھی باتوں کا بیان - جلد 6

حدیث مبارکہ

عَنْ نَافِعٍ: أَنَّ رَجُلًا عَطَسَ إِلٰى جَنْبِ ابْن عمَرَ فَقَالَ: الْحَمْدُ لِلّٰهِ وَالسَّلَامُ عَلٰى رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ ابْنُ عُمَرَ: وَأَنَا أَقُولُ: الْحَمْدُ لِلّٰهِ وَالسَّلَامُ عَلٰى رَسُولِ اللّٰهِ وَلَيْسَ هٰكَذَا. عَلَّمَنَا رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ نَقُولَ: اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ عَلٰى كُلِّ حَالٍ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ

عن نافع: أن رجلا عطس إلى جنب ابن عمر فقال: الحمد لله والسلام على رسول الله صلى الله عليه وسلم قال ابن عمر: وأنا أقول: الحمد لله والسلام على رسول الله وليس هكذا. علمنا رسول الله صلى الله عليه وسلم أن نقول: الحمد لله على كل حال. رواه الترمذي

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت نافع سے کہ ایک شخص نے حضرت ابن عمر کی برابر میں چھینک لی تو بولا الله کا شکر ہے اور رسول الله پر سلام ۱∞؎تو جناب ابن عمر نے کہا کہ میں بھی کہتا الله کا شکر ہے اور رسول الله پر سلام ۲؎مگر ہم کو رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے اس طرح نہ سکھایا ہمیں یہ سکھایا کہ ہم کہیں الله کا شکر ہے ہر حال پر ۳؎(ترمذی)

شرح حدیث

۱∞؎غالبًا وہ صاحب سمجھے کہ حضور انور کو سلام بھی ذکر خیر ہے اور الحمدبھی ذکر خیر اور خیر کو خیر سے ملانا زیادتی خیر کا ذریعہ ہے،دیکھو خطبہ مسجد میں داخلہ کے وقت حمد وصلوۃ و سلام ملے ہوتے ہیں مگر یہ قیاس درست نہ تھا۔(مرقات)۲؎یعنی میں نہ تو حمد الٰہی کا انکار کرتا ہوں نہ حضور کو سلام کرنے کا نہ ان دونوں کو جمع کرنے کا میں خود بارہا ان دونوں کو ملا کر کہا کرتا ہوں۔
۳
؎یعنی چھینک کے موقعہ پر حمد الٰہی کو سلام رسول الله سے ملانا خلاف سنت ہے،ہم کو حضور نے اس موقعہ پر یہ سکھایا کہ حمد کے ساتھعلی کل حالملائیں،نیز حمد کے ساتھ سلام کو ملانا اس سنت کے ترک کا باعث ہے لہذا بدعت ہے اور ممنو ع۔بعض علماء نے چھینک کے وقت درود شریف کو سنت فرمایا ہے،دیکھو اشعۃ اللمعات۔ مگر وہ حضراتعلی کل حالکے بعد درود شریف کو مستحب کہتے ہیں۔خیال رہے کہ حضور صلی الله علیہ وسلم کی بارگاہ میں کسی نے چھینک کر کہا تھا السلام علیکم تو حضور انور نے اس پر کچھ سختی فرمائی تھی مگر حضرت ابن عمر نے اس شخص پر نہایت نرمی کی،وجہ یہ ہے کہ اس شخص نے الحمدبالکل نہ کہا تھا صرف سلام کیا تھا لہذا اس پر سختی کی۔یہاں اس شخص نے حمد کے بعد سلام کہا یعنی حمد کو چھوڑا نہیں لہذا نرمی فرمائی یا شاید اس شخص نے بارہا یہ قصور کیا ہوگا اس لیے اس پر سختی کی یہاں اس شخص نے پہلی بار یہ قصور کیا ہے،مرقات میں اس دوسری توجیہ کا ذکر کیا۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 6 , حدیث نمبر: 4744