Main Icon

باب: چھینک اور جمائی کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 4733

اچھی باتوں کا بیان - جلد 6

حدیث مبارکہ

وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسلم: " إِذَا عَطَسَ أَحَدُكُمْ فَلْيَقُلْ: اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ وَلْيَقُلْ لَهٗ أَخُوهُ - أَوْ صَاحِبُهٗ - يَرْحَمُكَ اللّٰهُ. فإِذا قَالَ لَهٗ يَرْحَمُكَ اللهُ فَلْيَقُلْ: يَهْدِيْكُمُ اللهُ وَيُصْلِحُ بَالَكُمْ " رَوَاهُ البُخَارِيُّ

وعنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " إذا عطس أحدكم فليقل: الحمد لله وليقل له أخوه - أو صاحبه - يرحمك الله. فإذا قال له يرحمك الله فليقل: يهديكم الله ويصلح بالكم " رواه البخاري

حدیث ترجمہ

روایت ہے انہی سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ جب تم میں سے کوئی چھینکے تو کہے الحمداور اس کا بھائی اس کا ساتھی اس سے کہے یرحمک الله پھر جب کہے یرحمک الله تو یہ کہےيهديكم الله و يصلح بالكم۱∞؎(بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎چونکہ چھینک الله تعالیٰ کی نعمت ہے لہذا اس پر الله کی حمد کرنی چاہیے،چونکہ اس حمد سے اس نے الله کی نعمت کی قدر کی لہذا سننے والے نے اسے دعا دی یرحمک الله،چونکہ اس دعا دینے والے نے اس پر احسان کیا لہذا احسان کا بدلہ احسان سے کرتے ہوئے یہ پھر اسے دعا دے اور کہےیہدیکم اللهغرضکہ ان ذکروں کے ایرپھیر میں عجیب حکمت ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 6 , حدیث نمبر: 4733