Main Icon

باب: چھینک اور جمائی کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 4735

اچھی باتوں کا بیان - جلد 6

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِي مُوسٰى قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: إِذَا عَطَسَ أَحَدُكُمْ فَحَمِدَ اللّٰهَ فَشَمِّتُوهُ وَإِنْ لَمْ يَحْمَدِ اللّٰهَ فَلَا تُشَمِّتُوهُ . رَوَاهُ مُسْلِمٌ

وعن أبي موسى قال: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: إذا عطس أحدكم فحمد الله فشمتوه وإن لم يحمد الله فلا تشمتوه . رواه مسلم

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابو موسیٰ سے فرماتے ہیں میں نے رسول الله صلی الله علیہ وسلم کو فرماتے سنا کہ جب تم میں سے کوئی چھینکے پھر خدا کی حمد کرے تو جواب دو اگر حمد نہ کرے تو اسے جواب نہ دو ۱∞؎(مسلم)

شرح حدیث

۱∞؎بعض علماء فرماتے ہیں کہ یہ نہی ممانعت کے لیے ہے لہذا ایسے شخص کو جواب دینا گناہ ہے،بعض فرماتے ہیں کہ نہی سنیت کی نفی کے لیے ہے یعنی ایسے کو جواب دینا سنت نہیں مگر گناہ بھی نہیں مگر یہ بات یقینی ہے کہ حضور صلی الله علیہ وسلم نے ایسے کو جواب نہیں دیا لہذا جواب نہ دینا ہی سنت ہے۔(اشعہ)خیال رہے کہ عدم فعل سنت نہیں ہوتا بلکہ ترک فعل سنت ہوتا ہے عدم اور ترک میں بڑا فرق ہے۔عدم زنا پر ثواب نہیں بلکہ ترک گناہ پر ثواب ہے،جب کسی کام کا باعث موجود ہو پھر کام نہ کیا جاوے وہ ترک ہے اور مطلقًا کوئی کام نہ کرنا عدم فعل ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 6 , حدیث نمبر: 4735