Main Icon

باب: چھینک اور جمائی کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 4736

اچھی باتوں کا بیان - جلد 6

حدیث مبارکہ

وَعَنْ سَلْمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ أَنَّهٗ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَطَسَ رَجُلٌ عِنْدَهٗ فَقَالَ لَهُ: يَرْحَمُكَ اللّٰهُ ثُمَّ عَطَسَ أُخْرٰى فَقَالَ: الرَّجُلُ مَزْكُومٌ . رَوَاهُ مُسْلِمٌ وَفِي رِوَايَة التِّرْمِذِيّ أَنَّهٗ قَالَ لَهٗ فِي الثَّالِثَةِ: إِنَّهٗ مَزْكُومٌ

وعن سلمة بن الأكوع أنه سمع النبي صلى الله عليه وسلم وعطس رجل عنده فقال له: يرحمك الله ثم عطس أخرى فقال: الرجل مزكوم . رواه مسلم وفي رواية الترمذي أنه قال له في الثالثة: إنه مزكوم

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت سلمہ ابن اکوع سے انہوں نے نبی صلی الله علیہ وسلم کو سنا اور آپ کے پاس ایک شخص نے چھینک لی تو اس سے فرمایایرحمك اللهاس نے پھر دوبارہ چھینک لی تو فرمایا کہ یہ شخص زکام والا ہے ۱∞؎(مسلم)اور ترمذی کی روایت میں ہے کہ حضور نے تیسری بار میں فرمایا کہ وہ زکام والا ہے ۲؎

شرح حدیث

۱∞؎معلوم ہوا کہ جو نزلہ زکام کا بیمار ہو اسے ہر چھینک پر جواب نہ دے کہ اس میں بہت حرج ہوگا کہ پھر تو وہ زکام والا کسی کو بات نہ کرنے دے گا وہ چھینکے جاوے تم جواب دیئے جاؤ جیسے اذان کا جواب دے مگر پہلی اذان کا پھر اذانیں سنتا رہے جواب دینا ضروری نہیں۔
۲
؎زیادہ روایات تین کی ہی ہیں کہ حضور انور نے تیسری چھینک پر فرمایا کہ تجھے زکام ہے،بعض شارحین نے فرمایا کہ زکام والے شخص کو بجائے جواب دینے کے کہےشفاك اللهتجھے الله شفادے مگر یہ قول درست نہیں کیونکہ دعاءصحت تو ویسے ہی کرنی چاہیے چھینک پر کیا موقوف ہے یہ وقت شفا کی دعا کا نہیں ہے،نیز زکام بیماری نہیں ہے بلکہ دماغی بیماریوں کا علاج اس سے بہت مرض دفع ہوجاتے ہیں۔(مرقات)زکام والے کو دیوانگی و جنون نہیں ہوتا جسے کبھی خارش ہواسے جذام و کوڑ ھ نہیں ہوتا،زکام و خارش میں رب تعالیٰ کی بہت حکمتیں ہیں۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 6 , حدیث نمبر: 4736