Main Icon

باب: چھینک اور جمائی کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 4743

اچھی باتوں کا بیان - جلد 6

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: شَمِّتْ أَخَاكَ ثَلَاثًا فَإِنْ زَادَ فَهُوَ زُكَامٌ . رَوَاهُ أَبُوْدَاوُدَ وَقَالَ: لَا أَعْلَمُهُ اِلَّا أَنَّهٗ رَفَعَ الْحَدِيثَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

وعن أبي هريرة قال: شمت أخاك ثلاثا فإن زاد فهو زكام . رواه أبوداود وقال: لا أعلمه الا أنه رفع الحديث إلى النبي صلى الله عليه وسلم

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرمایا اپنے بھائی کو تین بار جواب دو اگر زیادہ ہو تووہ زکام ہے ۱∞؎(ابوداؤد)اور فرمایا کہ میں انہیں نہیں جانتا ہوں مگر انہوں نے حدیث نبی صلی الله علیہ وسلم تک مرفوع کی ۲؎

شرح حدیث

۱∞؎اور زکام ایک بیماری ہے بیماری کی چھینک کا جواب سنت نہیں۔خیال رہے کہ سنت نہ ہونا اور ہے خلاف سنت ہونا کچھ اور خلاف سنت چیز بدعت ہوتی ہے جس کا کرنا ممنوع ہوتا ہے اور سنت نہ ہونا ممنوع ہونے کی دلیل نہیں،بخاری شریف پڑھنا سنت نہیں مگر خلاف سنت نہیں اس لیے ممنوع نہیں،خلاف سنت وہ ہے جو سنت کو مٹادے اس کا فرق کتاب راہِ جنت میں ملاحظہ فرماؤ آج لوگوں نے ان دونوں میں فرق نہیں کیا۔
۲
؎قالکا فاعل ابوداؤد نہیں بلکہ وہ راوی ہیں جنہوں نے حضرت ابوہریرہ سے یہ روایت کی یعنی سعید مقبری۔ مطلب یہ ہے کہ سعید مقبری کہتے ہیں کہ مجھے خیال پڑتا ہے کہ یہ حدیث حضرت ابوہریرہ کا قول نہیں بلکہ حضور صلی الله علیہ وسلم کا فرمان ہے۔ (لمعات)اگر مرفوع نہ بھی ہو تب بھی مرفوع کے حکم میں ہوگی کہ صحابی کا وہ قول جو قیاس سے وراء ہو مرفوع کے حکم میں ہوتا ہے۔(اشعہ)جیساکہ کتب اصول فقہ میں مذکور ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 6 , حدیث نمبر: 4743