Main Icon

باب: چھینک اور جمائی کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 4739

اچھی باتوں کا بیان - جلد 6

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِي أَيُّوبَ أَنَّ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِذَا عَطَسَ أَحَدُكُمْ فَلْيَقُلْ: اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ عَلٰى كُلِّ حَالٍ وَلْيَقُلِ الَّذِي يَرُدُّ عَلَيْهِ: يَرْحَمُكَ اللهُ وَلْيَقُلْ هُوَ: يَهْدِيْكُمْ وَيُصْلِحُ بَالَكُمْ " رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَالدَّارَمِيُّ

وعن أبي أيوب أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: " إذا عطس أحدكم فليقل: الحمد لله على كل حال وليقل الذي يرد عليه: يرحمك الله وليقل هو: يهديكم ويصلح بالكم " رواه الترمذي والدارمي

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابو ایوب سے کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا جب تم میں سے کوئی چھینکے تو کہے ۱∞؎الله تم پر رحم کرے اور یہ کہے الله تمہیں ہدایت دے اور تمہارا حال درست کرے ۲؎(ترمذی، دارمی)

شرح حدیث

۱∞؎عمل جو کوئی چھینک پر کہےالحمدﷲ علی کل حالاور اپنی زبان سارے دانتوں پر پھیر لیا کرے توان شاءاللهدانتوں کی بیماریوں سے محفوظ رہے گا مجرب ہے۔حضرت علی فرماتے ہیں کہ جو کوئی چھینک پر کہےالحمدﷲ رب العالمین علی کل حالتوان شاءاللهاسے کبھی ڈاڑھ اور کان کا درد نہ ہوگا۔امام عسقلانی فرماتے ہیں کہ یہ حدیث صحیح ہے۔(ابن ابی شیبہ، مرقات)حق یہ ہے کہ تمام سننے والوں پٖر جواب دینا سنت ہے یعنی جواب چھینک سنت علی العین ہے۔
۲
؎کہبالکے معنی دل،خیال،حال ہیں۔یہاں بمعنی حال ہے جب حال ہی ٹھیک ہوگیا تو دل و خیال بھی ٹھیک ہوجائیں گے اس لیے یہاںبالسے حال مراد لے تاکہ دعا جامع ہوجاوے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 6 , حدیث نمبر: 4739