Main Icon

باب: چھینک اور جمائی کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 4734

اچھی باتوں کا بیان - جلد 6

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: عَطَسَ رَجُلَانِ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَشَمَّتَ أَحَدَهُمَا وَلَمْ يُشَمِّتِ الْآخَرَ. فَقَالَ الرَّجُلُ: يَا رَسُولَ اللّٰهِ شَمَّتَّ هٰذَا وَلَمْ تُشَمِّتْنِي قَالَ: إِنَّ هٰذَا حَمِدَ اللّٰهَ وَلَمْ تَحْمِدَ اللهُ . (مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ)

وعن أنس قال: عطس رجلان عند النبي صلى الله عليه وسلم فشمت أحدهما ولم يشمت الآخر. فقال الرجل: يا رسول الله شمت هذا ولم تشمتني قال: إن هذا حمد الله ولم تحمد الله . (متفق عليه)

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت انس سے فرماتے ہیں کہ نبی صلی الله علیہ وسلم کے پاس دو شخصوں نے چھینک لی تو حضور نے ایک کو جواب دیا ۱∞؎دوسرے کو جواب نہ دیا تو اس شخص نے عرض کیا یارسول الله آپ نے ان کو جواب دیا مجھے نہ دیا فرمایا اس
نے الله کی حمد کی تم نے نہ کی ۳
؎(مسلم،بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎چھینک کے جواب کوتشمیتکہتے ہیں یہ بنا ہےشمتسے بمعنی آفت و مصیبت یا لوگوں کا طعنہ۔اس سے ہےشماتت اعداءباب تفعیل سلب کے لیے ہے لہذا اس کے معنی ہوئے ہوئے مصیبت دور کرنا یعنی دعا دینا دعاء خیر کوتشمیتاسے لیے کہا جاتا ہے۔
۲
؎معلوم ہوا کہ چھینکنے والے کا جواب جب دیا جاوے جب وہ الحمدکہے اور یہ سنے بھی ایک شخص نے دیوار کے پیچھے چھینک لی تو حضرت عمر نے فرمایایرحمك الله ان حمدت اللهاگر تو نے رب کی حمد کی ہو تو خدا تجھ پر رحم کرے اگر اکیلا آدمی چھینک لے اور الحمدکہے کوئی جواب دینے والے نہ ہو تو خود ہی کہہ لےیغفر الله لی ولکمکیونکہ فرشتے اس کی چھینک کا جواب دیتے ہیں یہ ان کی نیت سے یہ دعاکرے جیسے نماز کے سلام میں فرشتوں کی نیت کرے اگر اکیلا ہو۔(مرقات)

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 6 , حدیث نمبر: 4734