Main Icon

باب: چھینک اور جمائی کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 4741

اچھی باتوں کا بیان - جلد 6

حدیث مبارکہ

وَعَنْ هِلَالِ بْنِ يَسَافٍ قَالَ: كُنَّا مَعَ سَالِمِ بْنِ عُبَيْدٍ فَعَطَسَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ فَقَالَ: السَّلَامُ عَلَيْكُمْ. فَقَالَ لَهٗ سَالِمٌ: وَعَلَيْكَ وَعَلٰى أُمِّكَ. فَكَأَنَّ الرَّجُلَ وَجَدَ فِي نَفْسِهٖ فَقَالَ: أَمَا إِنِّي لَمْ أَقُلْ إِلَّا مَا قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذْ عَطَسَ رَجُلٌ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: السَّلَامُ عَلَيْكُمْ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " عَلَيْكَ وَعَلٰى أُمِّكَ إِذَا عَطَسَ أَحَدُكُمْ فَلْيَقُلْ: الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ وَلْيَقُلْ لَهٗ مَنْ يَرُدُّ عَلَيْهِ: يَرْحَمُكَ اللّٰهُ وَلْيَقُلْ:يَغْفِرْلِيْ وَلَكُمْ " رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُوْ دَاوُدَ

وعن هلال بن يساف قال: كنا مع سالم بن عبيد فعطس رجل من القوم فقال: السلام عليكم. فقال له سالم: وعليك وعلى أمك. فكأن الرجل وجد في نفسه فقال: أما إني لم أقل إلا ما قال النبي صلى الله عليه وسلم إذ عطس رجل عند النبي صلى الله عليه وسلم فقال: السلام عليكم فقال النبي صلى الله عليه وسلم: " عليك وعلى أمك إذا عطس أحدكم فليقل: الحمد لله رب العالمين وليقل له من يرد عليه: يرحمك الله وليقل:يغفرلي ولكم " رواه الترمذي وأبو داود

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ہلال ابن یساف سے ۱∞؎فرماتے ہیں کہ ہم سالم ابن عبید کے پاس تھے ۲؎تو قوم میں سے کسی شخص نے چھینکا تو بولا السلام علیکم ۳؎تو اس سے سالم نے کہا تجھ پر اور تیری ماں پر۴؎تو شاید وہ شخص اپنے دل میں غصہ ہوا ۵؎تو فرمایا میں نے وہ ہی کہا ہے جو نبی صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا جب ایک شخص نے نبی صلی الله علیہ وسلم کے پاس چھینک لی تھی تو بولا السلام علیکم تو نبی صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا تجھ پر اور تیری ماں پر ۶؎جب تم میں سے کوئی چھینکے تو کہےالحمد لله رب العلمیناور اس کو جواب دینے والا کہےیرحمك اللهاور یہ کہےیغفر الله لی ولکم۷؎(ترمذی، ابوداؤد)

شرح حدیث

۱∞؎آپ تابعی ہیں،حضرت اشجع کے آزادکردہ غلام ہیں،حضرت علی اور حضرت ابو مسعود انصاری مسلم ابن قیس سے ملاقات ہے،۱۷۷ھ؁∞ ایک سو ستتر میں وفات پائی آپ سے بہت لوگوں نے روایات لیں۔(مرقات و اشعہ)۲؎یا تو منہ سے نکل گیا یا بجائےالحمدﷲکے السلام علیکم عمدًا کہا یہ سمجھتے ہوئے کہ یہ بھی الله کا ذکر ہی ہے یا مسئلہ معلوم نہ تھا۔
۳
؎یہ سلام تحیت کا نہیں ہے بلکہ اظہار ناراضی و بیزاری کا ہے جیسے ابراہیم علیہ السلام نے اپنے چچا آزر کے جواب میں فرمایا "قَالَ سَلٰمٌ عَلَیۡکَ"یعنی تجھے دور ہی سے سلام ہے اس سلام یعنی ناراضگی میں ماں کو اس لیے داخل فرمایا کہ ماں نے بچے کو دین نہ سکھایا یہ باتیں مائیں سکھاتی ہیں اس نے غفلت برتی یا بچے ایسی بدعتیں اکثر ماؤں سے سیکھتے ہیں۔ہمارے ہاں لوگ چاند دیکھ کر سلام کرتے ہیں اماں سلام،ابا سلام یہ بھی بوڑھی عورتوں کی رسم ہے،چونکہ ان رسوم بے موقعہ سلام کی موجد عورتیں ہوتی ہیں خصوصًا مائیں دادیاں اس لیےعلی امكفرمایا۔اس فرمان عالی سے معلوم ہوا کہ بے موقعہ سلام کرنے والے کو جواب نہ دیا جاوے،دیکھو حضور انور نے وعلیکم السلام نہ فرمایا،نیز چونکہ اس نے چھینک کر الحمدنہ کہا لہذا اسے جواب بھی نہ دیا گیا اس حدیث سے بہت مسائل مستنبط ہوسکتے ہیں۔
۵
؎یعنی اس نے منہ سے تو کچھ نہ کہا مگر اس کے چپ ہوجانے سے محسوس ہوا کہ اس کے دل کو اس جواب سے رنج ہوا۔
۶
؎سبحان الله!کیا حکیمانہ طریقہ اختیار فرمایا کہ اس کا رنج دور کرنے کو حدیث پیش فرمائی اور فرمایا کہ اس سارے ہی واقعہ میں میں متبع ہوں مبتدع نہیں ہوں۔(مرقات)۷؎مقصد یہ ہے کہ یہ موقع سلام کا نہ تھا بلکہ حمد الٰہی کا تھا اگر تم حسب موقعہ الحمد کہتے تو جواب پاتے ہر مقام کے لیے ذکر الله علیحدہ ہے۔خوشی کی خبر پرانا ﷲنہ پڑھو غم کی خبر پرالحمدﷲنہ کہو۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 6 , حدیث نمبر: 4741