Main Icon

باب: چھینک اور جمائی کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 4742

اچھی باتوں کا بیان - جلد 6

حدیث مبارکہ

وَعَنْ عُبَيْدِ بْنِ رِفَاعَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: شَمِّتِ الْعَاطِسَ ثَلَاثًا فَمَا زَادَ فَإِنْ شِئْتَ فَشَمِّتْهُ وَإِنْ شِئْتَ فَلَا .رَوَاهُ أَبُوْدَاوُدَ وَالتِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هٰذَا حَدِيْثٌ غَرِيْبٌ

وعن عبيد بن رفاعة عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: شمت العاطس ثلاثا فما زاد فإن شئت فشمته وإن شئت فلا .رواه أبوداود والترمذي وقال: هذا حديث غريب

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عبید ابن رفاعہ سے ۱∞؎وہ نبی صلی الله علیہ وسلم سے راوی فرمایا چھینکنے والے کو تین بار جواب دو پھر جو زیادہ کرے تو اگر چاہو جواب دو اگر چاہو نہ دو ۲؎(ابوداؤد، ترمذی)اور فرمایا یہ حدیث غریب ہے۔

شرح حدیث

۱∞؎عبید ابن رفاعہ تابعی ہیں،ان کے والد رفاعہ ابن رافع صحابی ہیں،ان کی کنیت ابو معاذ ہے،انصاری ہیں زرقی ہیں،بدر احد اور تمام غزوات نبوی میں شریک ہوئے، جنگ جمل میں حضرت علی کے ساتھ تھے،حضرت معاویہ کے زمانہ میں فوت ہوئے،ان کے دو بیٹے ہیں عبید اور معاذ ایک بھتیجہ یحیی ابن خلاد لہذا یہ حدیث مرسل ہے۔(مرقات)۲؎یعنی مسلمان کی تین چھینکوں کا جواب دینا سنت ہے مگر چوتھی چھینک کا جواب دینا سنت نہیں تمہاری مرضی پر ہے لیکن اگر جواب دیا توان شاءاللهثواب ملے گا کہ مسلمان کو دعا دینا عبادت ہے۔یہاں یہ ارشاد نہ ہوا کہ خود چھینکنے والا چوتھی چھینک پر الحمدکہے یا نہ کہے ظاہر یہ ہے کہ کہے حمد الٰہی بہتر ہی ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 6 , حدیث نمبر: 4742