Main Icon

باب: چھینک اور جمائی کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 4740

اچھی باتوں کا بیان - جلد 6

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِي مُوسٰى قَالَ: كَانَ الْيَهُودُ يَتَعَاطَسُونَ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَرْجُونَ أَنْ يَقُولَ لَهُمْ: يَرْحَمُكُمُ اللّٰهُ فَيَقُولُ: يَهْدِيكُمُ اللّٰهُ وَيُصْلِحُ بَالَكُمْ . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُوْدَاوُدَ

وعن أبي موسى قال: كان اليهود يتعاطسون عند النبي صلى الله عليه وسلم يرجون أن يقول لهم: يرحمكم الله فيقول: يهديكم الله ويصلح بالكم . رواه الترمذي وأبوداود

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابو موسیٰ سے فرماتے ہیں کہ یہود نبی صلی الله علیہ وسلم کے پاس چھینکا کرتے تھے ۱∞؎امید یہ کرتے تھے کہ ان سے فرمادیں الله تم پر رحم کرے مگر آپ فرماتے الله تمہیں ہدایت دے تمہارا حال درست کرے ۲؎(ترمذی، ابوداؤد)

شرح حدیث

۱∞؎یعنی دیدہ و دانستہ چھینک لیا کرتے تھے ناک میں تنکے ڈال کر یا کسی اور طریقہ سے جیساکہیتعاطسونبتارہا ہے۔
۲
؎اس سے دو مسئلے معلوم ہوئے: ایک یہ کہ یہود بھی حضور صلی الله علیہ وسلم کو مقبول الدعاء الله کا محبوب جانتے تھے اس لیے آپ کی دعا لینے کی کوشش کرتے تھے مگر ایمان نہ لاتے تھے حضور سے دعا لینے کی ترکیب ایمان لانا اور نیک اعمال کرنا ہے خصوصًا نماز تہجد کی پابندی کرنا۔دوسرے یہ کہ کفار کے لیے دعاء مغفرت دعاء رحمت کرنا ممنوع ہے انہیں دعائے ہدایت کرے،رحمت مغفرت صرف مسلمانوں کے لیے ہے ہدایت کفار کو بھی مل سکتی ہے کہ وہ ہدایت پاکر ایمان قبول کرلیں۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 6 , حدیث نمبر: 4740