Main Icon

باب : حیض کا باب - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 552

پاکی کی کتاب - جلد 1

حدیث مبارکہ

وَعَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُوْلَ اللّٰهِ مَا يَحِلُّ لِيْ مِنِ امْرَأَتِيْ وَهِيَ حَائِضٌ؟ قَالَ: "مَا فَوْقَ الإِزَارِ، وَالتَّعَفُّفُ عَنْ ذٰلِكَ أَفْضَلُ". رَوَاهُ رَزِيْنٌ. وَقَالَ مُحْيِی السُّنَّةِ: إِسْنَادُهٗ لَيْسَ بِقَوِيٍّ.

وعن معاذ بن جبل قال: قلت: يا رسول الله ما يحل لي من امرأتي وهي حائض؟ قال: "ما فوق الإزار، والتعفف عن ذلك أفضل". رواه رزين. وقال محيی السنة: إسناده ليس بقوي.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت معاذ ابن جبل سے فرماتے ہیں کہ میں نے عرض کیایارسول الله!مجھے میری بیوی سے بحالت حیض کیا کام حلال ہے فرمایا وہ جو تہبند سے اوپر ہو اور بچنا اس سے بھی بہتر ہے ۱؎(رزین) محی السنہ فرماتے ہیں کہ اس کی اسناد قوی نہیں۔

شرح حدیث

۱∞؎یعنی حائضہ عورت جب کہ پائجامہ یاتہبندمضبوطی سے باندھے ہوتواس کے ساتھ لپٹنا اور اس سے بوس و کنار درست ہے لیکن بچنا بہتر،خصوصًا اس جوان کوجوایسی حالت میں اپنے نفس پر قابو نہ رکھتا ہو۔خیال رہے کہ حضورانورصلی اللہ علیہ وسلم کا یہ عمل شریف خودکرنا بیان جواز کے لیے ہے،حضور صلی اللہ علیہ وسلم کبھی غیرمستحب بلکہ مکروہ کاموں پرعمل فرما کرجوازثابت کرتے تھے،یہ تبلیغ کی قسم تھی،حضورصلی اللہ علیہ وسلم کو اس پربھی ثواب ملتا تھا۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 1 , حدیث نمبر: 552