Main Icon

باب : حیض کا باب - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 551

پاکی کی کتاب - جلد 1

حدیث مبارکہ

عَنْ أَبِيْ هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-: "مَنْ أَتَى حَائِضًا أَوِ امْرَأَةً فِيْ دُبُرِهَا أَوْ كَاهِنًا فَقَدْ كَفَرَ بِمَا أُنْزِلَ عَلٰى مُحَمَّدٍ"رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ وَالدَّارِمِيُّ وَفِيْ رِوَايَتِهِمَا: "فَصَدَّقَهٗ بِمَا يَقُوْلُ فَقَدْ كَفَرَ". وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ: لَا نَعْرِفُ هَذَا الْحَدِيْثَ إِلَّا مِنْ حَكِيْمِ الأَثْرَمِ عَنْ أَبِيْ تَمِيْمةَ عَنْ أَبِيْ هُرَيْرَةَ.

عن أبي هريرة قال: قال رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: "من أتى حائضا أو امرأة في دبرها أو كاهنا فقد كفر بما أنزل على محمد"رواه الترمذي وابن ماجه والدارمي وفي روايتهما: "فصدقه بما يقول فقد كفر". وقال الترمذي: لا نعرف هذا الحديث إلا من حكيم الأثرم عن أبي تميمة عن أبي هريرة.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ جو حائضہ عورت سے جماع کرے یا عورت کے پاخانہ کی جگہ یا کاہن کے پاس جائے اس نے محمد مصطفے پر اترے ہوئے کا انکار کیا ۱؎اسے ترمذی،ابن ماجہ اور دارمی نے روایت کیا ان دونوں کی روایت میں یہ ہے کہ کاہن کے کہے ہوئے کی تصدیق کرے تو کافر ہو گیا۔ترمذی فرماتے ہیں کہ ہم اس حدیث کو صرف حکیم اثرم سے جانتے ہیں جو ابو تمیمہ سے ۲؎وہ ابوہریرہ سے راوی ہیں۔

شرح حدیث

۱؎یعنی یہ تینوں شخص قرآن وحدیث کے منکرہوکر کافرہوگئے۔خیال رہے کہ یہاں سے شرعی کفر ہی مراد ہے اسلام کا مقابل۔اوران سے وہ لو گ مراد ہیں جو عورت سے دبر میں،یابحالت حیض صحبت کوجائزسمجھ کر صحبت کریں،اورکاہن نجومی کوعالم الغیبجان کراس سے فال کھلوائیں،یاغیبی خبریں پوچھیں اوراگر گناہ سمجھ کر یہ کام کریں تو فسق ہے،کفر نہیں۔یایہاں کفر سے مرادلغوی معنی ہیں ناشکری،رب فرماتا ہے: "وَاشْکُرُوۡا لِیۡ وَلَا تَکْفُرُوۡنِ"۔خیال رہے کہ حائضہ سے صحبت کرنے کی حرمت نص قرانی سے ثابت ہے،رب فرماتا ہے:"قُلْ ھُوَ اَذًی فَاعْتَزِلُوا النِّسَآءَ"۔اورعورت سے دبر میں صحبت کی حرمت قطعی قیاس قطعی سے ثابت ہے،ان دونوں کا منکرکافرہے۔اس قسم کی احادیث حرمت قطعی ثابت نہیں کرسکتیں۔اس کی بحث اسی جگہ مرقاۃ میں دیکھو اورہماری کتاب "جاء الحق"حصہ اول قیاس کی بحث میں۔ خلاصہ یہ ہے کہ یہ احادیث ظنیہ ہیں اورحرمت قطعی ثابت کرنے کے لئے قطعی دلیل درکارہے۔
۲
؎ابو تمیمہ جہیمی کا نام ظریف ابن مجالد ہے،حکیم ابن اثرم کو بعض محدثین نے ضعیف فرمایا،ظریف کو بعض نے ثقہ کہا،ان کا انتقال ۹۷ھمیں ہوا،امام بخاری نے اس حدیث کو ضعیف قرار دیا ۔(اشعہ)۱؎یعنی یہ تینوں شخص قرآن وحدیث کے منکرہوکر کافرہوگئے۔خیال رہے کہ یہاں سے شرعی کفر ہی مراد ہے اسلام کا مقابل۔اوران سے وہ لو گ مراد ہیں جو عورت سے دبر میں،یابحالت حیض صحبت کوجائزسمجھ کر صحبت کریں،اورکاہن نجومی کوعالم الغیبجان کراس سے فال کھلوائیں،یاغیبی خبریں پوچھیں اوراگر گناہ سمجھ کر یہ کام کریں تو فسق ہے،کفر نہیں۔یایہاں کفر سے مرادلغوی معنی ہیں ناشکری،رب فرماتا ہے: "وَاشْکُرُوۡا لِیۡ وَلَا تَکْفُرُوۡنِ"۔خیال رہے کہ حائضہ سے صحبت کرنے کی حرمت نص قرانی سے ثابت ہے،رب فرماتا ہے:"قُلْ ھُوَ اَذًی فَاعْتَزِلُوا النِّسَآءَ"۔اورعورت سے دبر میں صحبت کی حرمت قطعی قیاس قطعی سے ثابت ہے،ان دونوں کا منکرکافرہے۔اس قسم کی احادیث حرمت قطعی ثابت نہیں کرسکتیں۔اس کی بحث اسی جگہ مرقاۃ میں دیکھو اورہماری کتاب "جاء الحق"حصہ اول قیاس کی بحث میں۔ خلاصہ یہ ہے کہ یہ احادیث ظنیہ ہیں اورحرمت قطعی ثابت کرنے کے لئے قطعی دلیل درکارہے۔
۲
؎ابو تمیمہ جہیمی کا نام ظریف ابن مجالد ہے،حکیم ابن اثرم کو بعض محدثین نے ضعیف فرمایا،ظریف کو بعض نے ثقہ کہا،ان کا انتقال ۹۷ھمیں ہوا،امام بخاری نے اس حدیث کو ضعیف قرار دیا ۔(اشعہ)

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 1 , حدیث نمبر: 551