Main Icon

باب : حیض کا باب - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 548

پاکی کی کتاب - جلد 1

حدیث مبارکہ

وَعَنْهَا قَالَتْ: كَانَ النَّبِيُّ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- يَتَّكِئُ فِيْ حِجْرِيْ وَأَنَا حَائِضٌ، ثمَّ يَقْرَأُ الْقُرْآنَ. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ

وعنها قالت: كان النبي -صلى الله عليه وسلم- يتكئ في حجري وأنا حائض، ثم يقرأ القرآن. متفق عليه

حدیث ترجمہ

روایت ہے انہی سے فرماتی ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم میری گود میں تکیہ لگاتے حالانکہ میں حائضہ ہوتی پھر قرآن تلاوت کرتے ۱؎(مسلم،بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎معلوم ہواکہ حائضہ عورت کے زانویاگود میں سررکھ کر قرآن پڑھنا جائز ہےکیونکہ حائضہ کی نجاست حکمی ہے حقیقی نہیں۔مردہ غسل دینے سے پہلے نجس حقیقۃً بھی ہوتا ہے اس لئے قبل غسل اس کے پاس بلا ڈھکے ہوئے قرآن پڑھنا منع ہے،لہذا یہ حدیث اس مسئلے کے خلاف نہیں۔خیال رہے کہ حضرت عائشہ صدیقہ کی گود قرآن اور قرآن والے محبوب کی رحل بنی،اس وقت بھی اورحضورعلیہ الصلوۃ والسلام کی وفات کے وقت بھی،کہ حضورصلی اللہ علیہ وسلم کا وصال آپ کی گود میں ہوا اور آپ کا حجرہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی آخری آرام گاہ بنا،لہذا آپ کی گود اور آپ کا حجرہ عرش عظیم سے بڑھ کرہے، الله تعالٰی اس دامن میں مجھ سے نالائق گنہگارکوجگہ دے۔آمین!شعر
انکا پہلو ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی آرام گاہ ان کے حجروں میں قیامت تک نبی ہیں جاگزیں

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 1 , حدیث نمبر: 548