Main Icon

باب : حیض کا باب - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 547

پاکی کی کتاب - جلد 1

حدیث مبارکہ

وَعَنْهَا قَالَتْ: كُنْتُ أَشْرَبُ وَأَنَا حَائِضٌ، ثُمَّ أُنَاوِلُهُ النَّبِيَّ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- فَيَضَعُ فَاهُ عَلٰى مَوْضِعِ فِيَّ فَيَشْرَبُ، وَأَتَعَرَّقُ الْعَرْقَ وَأَنَا حَائِضٌ، ثُمَّ أُنَاوِلُهُ النَّبِيَّ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- فَيَضَع فَاهُ مَوْضِعَ فِيَّ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ.

وعنها قالت: كنت أشرب وأنا حائض، ثم أناوله النبي -صلى الله عليه وسلم- فيضع فاه على موضع في فيشرب، وأتعرق العرق وأنا حائض، ثم أناوله النبي -صلى الله عليه وسلم- فيضع فاه موضع في. رواه مسلم.

حدیث ترجمہ

روایت ہے انہی سے کہ میں بحالت حیض پیتی پھر حضورصلی اللہ علیہ وسلم کو وہی برتن دے دیتی تو آپ اپنا منہ شریف میرے منہ والی جگہ پر رکھ کر پیتے اور میں بحالت حیض ہڈی چوستی پھر آپ کو دے دیتی تو آپ اپنا منہ شریف میرے منہ کی جگہ رکھتے ۱؎(مسلم)

شرح حدیث

۱∞؎اس حدیث سے چند مسئلے معلوم ہوئے:ایک یہ کہ اپنی بیوی کا جھوٹھا کھانا پینا جائز ہے بلکہ سنت سے ثابت ہے۔فقہاءجومردکوعورت کا جھوٹھا کھانا منع کرتے ہیں وہاں اجنبی عورت مراد ہے۔لہذا وہ مسئلہ اس حدیث کے خلاف نہیں۔دوسرے یہ کہ حضورصلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی پاک نہایت سادہ اور بے تکلف تھی امت کو سادگی اختیار کرنی چاہیئے۔تیسرے یہ کہ ہڈی منہ سے چوسنا سنت ہے،کانٹے سے کھانا طریقہ نصاریٰ ہے۔چوتھے یہ کہ حضرت عائشہ صدیقہ وہ خوش نصیب بی بی ہے کہ بارہا انکا لعاب حضور کے لعاب کے ساتھ جمع ہوا،خصوصًا وفات شریف کے وقت مسواک میں۔حضورصلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ہڈی چوسنا ،گوشت چھوڑانے کے لئے نہ ہوتا تھا وہ تو پہلے چھوٹ چکا ہوتا تھا بلکہ محبوبیت ظاہر فرمانے کے لئے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 1 , حدیث نمبر: 547