- ہوم
- کتابیں
- مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح
- جلد 1
- پاکی کی کتاب
- حدیث نمبر 299
باب : پاکی کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 299
پاکی کی کتاب - جلد 1
-
- باب : پاکی کا بیان
- باب : وضو واجب کرنے والی چیزوں کا باب
- باب : پاخانے کے آداب کا باب
- باب : مسواک کا باب
- باب: وضوء کی سنتیں
- باب : نہانے کا بیان
- باب : جنبی سے اختلاط کا باب اور کیا چیزیں جنبی کو جائز ہیں
- باب : پانیوں کے احکام کا باب
- باب : نجاستوں کے پاک کرنے کاباب
- باب : موزوں پر مسح کرنے کا باب
- باب : تیمم کا بیان
- باب : مسنون غسل کا باب
- باب : حیض کا باب
- باب : مستحاضہ کاباب
-
- باب:سترہ کا بیان
- باب: نماز پڑھنے کا طریقہ
- باب: تکبیر کے بعد کیا پڑھیں
- باب:نماز میں قرأءت
- باب :رکوع
- باب:سجدہ اوراس کی بزرگی
- باب :التحیات
- باب :نبی صلی الله علیہ وسلم پر درود پڑھنے کی فضیلت
- باب :التحیات میں دعا
- باب : نماز کے بعد ذکر
- باب :نماز میں کون سے کام ناجائز اور کون سے کام مباح(جائز) ہیں
- باب: بھولنے کا بیان
- باب : قرآنی سجدے
- باب : ممانعت کے اوقات
- باب : جماعت اور اس کی فضیلت
- باب : صف سیدھی کرنا
- باب : جگہ کا بیان
- باب : امامت کا بیان
- باب : امام پر لازم امور
- باب : مقتدی پر پیروی واجب ہونے اور مسبوق ہونے كا حکم
- باب : دوبار نماز پڑھنے والے کا بیان
- باب : سنتیں اور ان کی فضیلت
- باب : رات کی نماز
- باب : جب رات میں اٹھے تو کیا کہے
- باب : رات میں اٹھنے کی ترغیب
- باب : عمل میں میانہ روی
- باب : وتر کا بیان
- باب : قنوت کا بیان
- باب : ماہ رمضان میں قیام
- با ب : چاشت کی نماز
- باب : نوافل کا بیان
- باب : تسبیح کی نماز
- باب : سفر کی نماز
- باب : جمعہ کا بیان
- باب : جمعہ واجب ہونے کا بیان
- باب : صفائی کرنا اورنماز جمعہ کیلئے جلدی جانے کا بیان
- باب : خطبہ اور نماز
- باب : خوف کی نماز
- باب : عیدین کی نماز
- باب : قربانی کابيان
- باب : عتیرہ کابیان
- باب : گرہن کی نماز
- باب : سجدۂ شکر کا بیان
- باب :بارش مانگنے کابیان
- باب : ہواؤں کا بیان
-
- باب:ارکان حج
- باب:احرام باندھنے تلبیہ کہنے کا باب
- باب :وداعی حج کا قصہ
- باب: مکہ کا داخلہ اور طواف
- باب: عرفہ میں ٹھہرنا
- باب: عرفہ اور مزدلفہ سے روانگی
- باب:رمی جمروں کی
- باب:ہدی کا باب
- باب:سر منڈانے کا باب
- باب:متفرقات
- باب: بقر عید کے دن کا خطبہ اور تشریق کے دنوں کی رمی اور رخصتی طواف
- باب: جن چیزوں سے محرم بچے
- باب :محرم شکار سے بچے
- باب: روکے اور حج چھوٹ جانے کا باب
- باب: مکہ معظمہ حرم اللّٰه اس کی حفاظت فرمائے
- باب :مدینہ منورہ کا حرم اللّٰہ اسے محفوظ رکھے
-
- باب: کمائی کرنا اور حلال روزی تلاش کرنا
- باب: معاملہ میں نرمی کرنا
- باب: اختیار کا باب
- باب:سود کا باب
- باب :جن تجارتوں سے ممانعت کی گئی
- باب:ممنوعہ تجارتوں کے متعلق بیان
- باب: سلم اور گروی کا باب
- باب:غلہ روکنے کا بیان
- باب: دیوالیہ کرنا اور مہلت دینا
- باب:شرکت اور وکالت کا باب
- باب:مال ہتھیا لینے اور مانگ کر لینے کا باب
- باب:شفعہ کا باب
- باب:پانی دینے اور کھیتی کرانے کا باب
- باب: کرایہ کا باب
- باب: بنجر زمین کا آباد کرنا اور پانی دینا
- باب: بخششوں کا باب
- باب : پچھلے باب کا تتمہ
- باب: پائی ہوئی چیز کا باب
- باب: میراث کے حصّے
- باب:وصیتوں کا باب
-
- باب:نکاح کا بیان
- باب :جس عورت کو پیغام دیا جائے اسے دیکھ لینااور ستر کا بیان
- باب : نکاح میں ولی کا بیان اور عورت سے اجازت لینے کا بیان
- باب:نکاح کا اعلان،خطبہ اورشرط کا بیان
- باب:حرام عورتوں کابیان
- باب:صحبت کرنے کا بیان
- باب: متفرق احادیث
- باب:مہر کا بیان
- باب:ولیمہ کا بیان
- باب:باری کا بیان
- باب:بیویوں سے رفاقت کا بیان اور ہر ایک کے حقوق کیا ہیں
- باب:خلع اور طلاق کا بیان
- باب:تین طلاق دی ہوئی عورت کا بیان
- باب:ہر کفارہ میں مؤمن غلام ہی آزاد کیا جائے نہ کہ کافر
- باب:لعان کا بیان
- باب:عدت کا بیان
- باب:استبراء کا بیان
- باب:خرچوں اور مملوکہ کے حق کا بیان
- باب:بچہ کی جوانی اور لڑکپن میں اس کی پرورش کا بیان
-
- باب:جہاد کا بیان
- باب:جہاد کے آلات تیار کرنے کا بیان
- باب :سفر کے آداب و طریقے
- باب:کفار کو فرمان لکھنا اور انہیں اسلام کی طرف دعوت دینا
- باب: جہاد میں قتل
- باب: قیدیوں کا حکم
- باب: امان کا بیان
- باب: غنیمتوں کی تقسیم اور ان میں خیانت کرنے کا بیان
- باب:جزیہ کابیان
- باب:صلح کا بیان
- باب:جزیرہ عرب سے یہودیوں کے نکالنے کا بیان
- باب:فئ کا بیان
-
- باب:سلام کا باب
- باب:اجازت لینے کا بیان
- باب:مصافحہ کرنے گلے لگنے کا باب
- باب:کھڑے ہونے کا باب
- باب:بیٹھنے سونے اور چلنے کا باب
- باب: چھینک اور جمائی کا بیان
- باب: ہنسنے کا باب
- باب:ناموں کا بیان
- باب:وعظ و شعر کا بیان
- باب:زبان کی حفاظت اور غیبت اور گالی کا بیان
- باب:وعدے کاباب
- باب:خوش طبعی کا بیان
- باب: فخر اور تعصب کا بیان
- باب:نیکی اور صلہ رحمی کا بیان
- باب:مخلوق پر شفقت و رحمت کا بیان
- باب:الله کی راہ میں محبت اور الله کی محبت کا بیان
- باب: اس کا بیان کہ مسلمانوں کو چھوڑے رکھنا ان کا بائیکاٹ کرنا اورچھپے عیوب کی تلاش ممنوع ہے
- باب:احتیاط کرنے اور کاموں میں اطمینان کا بیان
- باب:نرمی و شرم وغیرت اور اچھی عادت کا بیان
- باب:غصہ اورغرور کا بیان
- باب:ظلم کا بیان
- باب :نیک باتوں کا حکم دینا
-
- باب: دل کو نرم کردینے والی باتوں کا بیان
- باب : فقیروں کی بزرگی کا بیان ۱؎ اور نبی صلی الله علیہ و سلم کی زندگی شریف کیسی تھی ۲؎
- باب : امید اور حرص کا بیان
- باب : اطاعت کے لیے مال اور عمر کا بہتر ہونا
- باب : توکل اور صبر کا بیان
- باب : دکھلاوے اور شہرت کا بیان
- باب : رونے اور ڈرنے کا بیان
- باب : لوگوں میں تبدیلی کا بیان
- باب : متفرقات و ملحقات کا بیان
-
- باب:فتنوں کا بیان
- باب : لڑائیوں کا بیان
- باب : قیامت کی علامتوں کا بیان
- باب : قیامت کے سامنے والی علامات اور دجّال کا بیان
- باب : ابن صیاد کا قصہ
- باب : عیسیٰ علیہ السلام کی تشریف آوری
- باب : قیامت کا قریب ہونا اور جو مر گیا تو اس کی قیامت قائم ہوگئی
- باب : قیامت قائم نہ ہوگی مگر بد ترین لوگوں پر
- باب : صور پھونکے جانے کا بیان
- باب : حشر کا بیان
- باب : حساب،بدلہ،ترازو کا بیان
- باب : حوض ۱؎اور شفاعت کا بیان ۲؎
- باب : جنت اور جنت والوں کی صفات کا بیان
- باب : الله تعالٰی کے دیدار کا بیان
- باب : آگ اور آگ والوں کا بیان
- باب : جنت اور دوزخ کی پیدائش
- باب : پیدائش کی ابتداء،حضرات انبیاءکرام کا ذکر
-
- باب:کرامات کا بیان
- باب:صحابہ کرام کی ہجرت مدینہ اور حضور صلی الله علیہ وسلم کی وفات کے مقدمات
- باب: حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کا تتمہ
- باب:قریش کے فضائل اور قبائل کے ذکر کا بیان
- حضرات صحابہ کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر صدیق کے فضائل
- باب:حضرت عمر کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کے فضائل
- باب:حضرت عثمان کے فضائل رضی اللہ عنہ
- باب:ان تینوں کے فضائل
- باب:حضرت علی ابن ابی طالب رضی الله عنہ کے فضائل
- باب:دس صحابہ کے فضائل رضی اللہ عنہم
- باب:نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے گھر والوں کے فضائل رضی اللہ عنہم اجمعین
- باب:نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں کے فضائل
- باب: منقبتوں کا مجموعہ
- باب:اس امت کے ثواب کا بیان
- باب:یمن اور شام کا ذکر ۱؎اور اویس قرنی کا تذکرہ ۲؎
حدیث مبارکہ
وَعَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : "أَنَا أَوَّلُ مَنْ يُؤْذَنُ لَهٗ بِالسُّجُودِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، وَأَنَا أَوَّلُ مَنْ يُؤْذَنُ لَهٗ أَنْ يَرْفَعَ رَأْسَهٗ، فَأنْظُرُ إِلٰى مَا بَيْنَ يَدَيَّ، فَأَعْرِفُ أُمَّتِي مِنْ بَيْنِ الأُمَمِ، وَمِنْ خَلْفِي مِثْلُ ذٰلِكَ، وَعَنْ يَمِيْنِيْ مِثْلُ ذٰلِكَ، وَعَنْ شِمَالِيْ مِثْلُ ذٰلِكَ"، فَقَالَ رَجُلٌ: يَا رَسُوْلَ اللهِ! كَيْفَ تَعْرِفُ أُمَّتَكَ مِنْ بَيْنِ الأُمَمِ فِيمَا بَيْنَ نُوحٍ إِلٰى أُمَّتِكَ؟ قَالَ: "هُمْ غُرٌّ مُحَجَّلُوْنَ مِنْ أَثَرِ الْوُضُوءِ لَيْسَ أَحَدٌ كَذٰلِكَ غَيْرُهُمْ، وَأَعْرِفُهُمْ أَنَّهُمْ يُؤْتُوْنَ كُتَبَهُمْ بِأَيْمَانِهِمْ، وَأَعْرِفُهُمْ تَسْعٰى بَين أَيْدِيهِمْ ذُرَّيَّتُهُمْ". رَوَاهُ أَحْمَدُ
وعن أبي الدرداء قال: قال رسول اللہ صلى الله عليه وسلم : "أنا أول من يؤذن له بالسجود يوم القيامة، وأنا أول من يؤذن له أن يرفع رأسه، فأنظر إلى ما بين يدي، فأعرف أمتي من بين الأمم، ومن خلفي مثل ذلك، وعن يميني مثل ذلك، وعن شمالي مثل ذلك"، فقال رجل: يا رسول الله! كيف تعرف أمتك من بين الأمم فيما بين نوح إلى أمتك؟ قال: "هم غر محجلون من أثر الوضوء ليس أحد كذلك غيرهم، وأعرفهم أنهم يؤتون كتبهم بأيمانهم، وأعرفهم تسعى بين أيديهم ذريتهم". رواه أحمد
حدیث ترجمہ
روایت ہے حضرت ابودراءسے فرماتے ہیں فرمایا رسولاللہصلی اللہ علیہ وسلم نے کہ میں پہلا وہ ہوں جسے قیامت کے دن سجدے کی اجازت ملے گی اور میں ہی پہلا وہ ہوں جسے سر اٹھانے کی اجازت ملے گی ۱؎تو اپنے سامنے بھیڑ دیکھوں گا تو تمام امتوں میں سے اپنی امت کو پہچان لوں گا اور میرے پیچھے بھی اسی طرح اور میرے داہنے بھی اسی طرح اور میرے بائیں بھی اسی طرح ہوں گے۲؎تب ایک صاحب نے عرض کیا کہ یارسولاللہ!آپ نوح علیہ السلام سے اپنی امت تک کی اتنی امتوں میں اپنی امت کو کیسے پہچانیں گے؟۳؎فرمایا وہ آثار وضو سے پنج کلیاں ہوں گے ان کے سوا اورکوئی ایسا نہ ہوگا۴؎اور انہیں یوں پہچانوں گا کہ ان کی کتابیں ان کے داہنے ہاتھ میں ہوں گی ۵؎اور ایسے پہچانوں گا کہ انکے بچے ان کے آگے دوڑتے ہوں گے۶؎(احمد)
شرح حدیث
۱∞؎یہ سجدہ عبادت کا نہ ہوگا بلکہ شفاعت کبریٰ کی اجازت کا ہوگا،یہ وہ وقت ہوگا جب سارے انبیاء نفسی نفسی کہہ کر جواب دے چکے ہوں گے اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم شفاعت کا دروازہ کھولیں گے۔ا س کی پوری تحقیقان شاءاللّٰه"باب الشفاعۃ"میں کی جائے گی۔مرقاۃ نے فرمایا کہ چونکہاللہنے سب سے پہلے حضورصلی اللہ علیہ وسلم کا نور پیدا فرمایا اس لئے وہاں بھی پہلے شفاعت آپ ہی کریں گے ہر جگہ اولیت کا سہرا انہی کے سر ہے۔یہ سجدہ ایک ہفتہ رہے گا۔جس میں حضور خدا کی ایسی حمد کریں گے جو کبھی کسی نے نہ کی ہوگی۔اسی لیے حضورصلی اللہ علیہ وسلم کا نام شریف احمد ہے۔
۲؎یعنی از آدم تا قیامت ساری خلقت حضور کو ایسے گھیرے ہوگی جیسے دولہا کو براتی،کیوں نہ ہو کہ سب کا فیصلہ آج کے دن حضور کی جنبش لب پر ہوگا،ہر آنکھ ان کا منہ تکے گی،ہر سران کی طرف جھکے گا،حضور کی جو شان ظاہر ہوگی وہ دیکھ کر ہی معلوم ہوگی۔اس بھیڑ میں سارے نبی بھی ہوں گے اور ان کے امتی بھی۔
۳؎یعنی اتنی امتوں کی بھیڑ میں آپ کی امت کی پہچان کیا ہوگی۔نوح علیہ السلام کا ذکر صرف ان کی شہرت کی بنا پر ہے ورنہ ان سے پہلے نبی مع امتوں کے وہاں موجود ہوں گے یاان سب سے پہلے کفارکوتبلیغ نوح علیہ السلام نے ہی کی۔
۴؎یعنی اگرچہ وضو ساری امتوں نے کئے تھےلیکن اس کا یہ نورصرف اس امت کے لئے ہوگا۔
۵؎یعنی میری امت کے نامۂ اعمال ان کے داہنے ہاتھ میں دیئے جائیں گے،کافروں کے بائیں ہاتھ میں،پچھلی امت کے مؤمنوں کو ابھی نامۂ اعمال نہ ملے ہوں گے اسوقت خالی ہاتھ ہوں گے،بعدمیں انہیں بھی داہنے ہاتھ میں ہی ملیں گے،نیز اس امت کے نامۂ اعمال دور سے چمکتے ہوں گے نہ کہ دوسری امتوں کے۔لہذا اس حدیث پر اعتراض نہیں کہ ہر نبی کے مؤمنوں کو دائیں ہاتھ میں نامۂ اعمال دیئے جائیں گے۔
۶؎جنت میں لے جانے کے لئے۔اس سے معلوم ہوا کہ چھوٹے بچوں کا ماں باپ کے آگے چلنا،شفاعت کرنا اس امت کے ساتھ خاص ہے۔خیال رہے کہ ان تینوں علامتوں پرحضور صلی اللہ علیہ وسلم کی پہچان موقوف نہیں،حضور صلی اللہ علیہ وسلم تو ہر شخص کے درجۂ ایمان سے خبردار ہیں،ہر ایک کے ایمان کی نبض پرحضور صلی اللہ علیہ وسلم کا ہاتھ ہے،کیوں نہ ہو کہ حضور ہر ایک کی ہر حالت کے گواہ مطلق ہیں"وَیَکُوۡنَ الرَّسُوۡلُ عَلَیۡکُمْ شَہِیۡدًا"۔حضور کے نیک امتی گنہگاروں کو دوزخ میں سے نکال کر لائیں گے،پہلے انہیں جن کے دل میں ایمان دینار کے برابر ہے،پھر آدھے دینار والوں کوحتی کہ آخر میں رائی کے برابر والوں کو،جب یہ مؤمن دل کے ایمان کی مقدار پہچانتے ہیں،تو حضور کی پہچان کا کیا پوچھنا؎وہ لیں گے چھانٹ اپنے نام لیواؤں کو محشر میں
غضب کی بھیڑ میں ان کی میں اس پہچان کے صدقے
ورنہ حضور کی امت میں بعض لوگ ان تینوں علامتوں سے خالی ہوں گے کہ نہ انہوں نے وضو کیا،نہ کوئی نیک عمل،نہ ان کے کوئی اولاد بلکہ یہ علامتیں تو عوام کی پہچان کے لیے ہیں۔اسی لیے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ نہ فرمایا کہ ان کے بغیر میں نہ پہچان سکوں گا۔
ماخذ و مراجع
کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 1 , حدیث نمبر: 299