Main Icon

باب : پاکی کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 298

پاکی کی کتاب - جلد 1

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَتَى الْمَقْبَرَةَ فَقَالَ: "السَّلَامُ عَلَيْكُمْ دَارَ قَوْمٍ مُؤْمِنِينَ، وَإِنَّا إِنْ شَاءَ اللّٰهُ بِكُمْ لَاحِقُوْنَ، وَدِدْتُ أَنَّا قَدْ رَأَيْنَا إِخْوَانَنَا"، قَالُوْا: أَوَلَسْنَا إِخْوَانَكَ يَا رَسُولَ اللهِ؟ قَالَ: "أَنْتُمْ أَصْحَابِي، وَإخْوَانُنَا الَّذِينَ لَمْ يَأْتُوا بَعْدُ"، فَقَالُوا: كَيْفَ تَعْرِفُ مَنْ لَمْ يَأْتِ بَعْدُ مِنْ أُمَّتِكَ يَا رَسُولَ اللهِ؟ فَقَالَ: "أَرَأَيْتَ لَوْ أَنَّ رَجُلًا لَهُ خَيْلٌ غُرٌّ مُحَجَّلَةٌ بَيْنَ ظَهْرَيْ خَيْلٍ دُهْمٍ بُهْمٍ أَلَا يَعْرِفُ خَيْلَهُ؟ "، قَالُوا: بَلٰی يَا رَسُولَ اللهِ، قَالَ: "فَإِنَّهُمْ يَأْتُوْنَ غُرًّا مُحَجَّلِيْنَ مِنَ الْوُضُوءِ، وَأَنَا فَرَطُهُمْ عَلَى الْحَوْضِ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ.

وعن أبي هريرة أن رسول الله -صلى الله عليه وسلم - أتى المقبرة فقال: "السلام عليكم دار قوم مؤمنين، وإنا إن شاء الله بكم لاحقون، وددت أنا قد رأينا إخواننا"، قالوا: أولسنا إخوانك يا رسول الله؟ قال: "أنتم أصحابي، وإخواننا الذين لم يأتوا بعد"، فقالوا: كيف تعرف من لم يأت بعد من أمتك يا رسول الله؟ فقال: "أرأيت لو أن رجلا له خيل غر محجلة بين ظهري خيل دهم بهم ألا يعرف خيله؟ "، قالوا: بلی يا رسول الله، قال: "فإنهم يأتون غرا محجلين من الوضوء، وأنا فرطهم على الحوض". رواه مسلم.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں کہ رسولاللہصلی اللہ علیہ وسلم قبرستان تشریف لے گئے تو فرمایا اے مؤمن قوم کی جماعت تم پر سلام ہو ۱؎ان شاءاللّٰهہم بھی تم سے ملنے والے ہیں ۲؎مجھے یہ تمنا ہے کہ اپنے بھائیوں کو دیکھتا ۳؎صحابہ نے عرض کیایارسولاللہکیا ہم آپ کے بھائی نہیں فرمایا تم میرے ساتھی دوست ہو،ہمارے بھائی وہ ہیں جو اب تک آئے نہیں ۴؎لوگوں نے عرض کیا،کیا آپ کے جو امتی اب تک نہیں آئے انہیں حضور کیسے پہچانیں گے؟۵؎فرمایا بتاؤ تو اگر کسی شخص کے گھوڑے پنج کلیان ہوں اور وہ نہایت سیاہ گھوڑوں میں مخلوط ہوگئے ہوں کیا یہ اپنے گھوڑے نہ پہچان لے گا ؟۶؎بولے ہاں یارسولاللہ!فرمایا وہ آثار وضو سے پنج کلیان آئیں گے اور میں حوض پر ان کا پیش رَوہوں گا ۷؎

شرح حدیث

۱∞؎مقبرہ سے مراد مدینہ منورہ کا قبرستان جنت البقیع ہے،جہاں حضور زیارت قبور کے لیے تشریف لے جاتے تھے۔دَارکے معنی گھر اور حویلی ہیں،اھلپوشیدہ ہے یعنی گھر والے۔مرقاۃ نے فرمایا عوام کی قبور پر پہنچ کر سلام کرنا سنت ہے،کیونکہ مردے زائرین کو دیکھتے ہیں،پہچانتے ہیں،اس کے کلام وسلام کو سنتے اورسمجھتے ہیں،کیونکہ نہ سننے والے اور نہ جواب دے سکنے والے کو سلام کرنا منع ہے،رب فرماتا ہے:"وَ اِذَا حُیِّیۡتُمۡ بِتَحِیَّۃٍ فَحَیُّوۡا بِاَحْسَنَ مِنْہَاۤ"الایۃ۔اس سےمعلوم ہوا کہ مردوں اورزندوں کوسلام یکساں کیا جائے یعنی اس طرح کہسلامپہلےعلیکمبعد میں،وہ جو حدیث میں ہے کہعلیکم السلاممردوں کا سلام ہے،اس سے مراد یہ ہے کہ جب مردے آپس میں ایک دوسرے سے ملتے ہیں تب یہ سلام کرتے ہیں لہذا یہ حدیث اس کے خلاف نہیں۔
۲
؎یعنی عنقریب وفات پا کر تم سے ملاقات کریں گے۔ان شاءاللّٰهبرکت کے لیے فرمایا ورنہ موت تو یقینی ہے یا ایمان پر خاتمہ اورکسی خاص جگہ مرنا ہم لوگوں کے لیے مشکوک ہے۔یعنی اگراللہنے چاہا تو ہم ایمان پر مرکر مؤمنوں سے ملیں گے۔یہ سب کچھ امت کی تعلیم کے لیے ہے۔
۳
؎یعنی آئندہ پیدا ہونے والے مسلمانوں سے حیات ظاہری میں ملاقات کرتا،ورنہ حضورصلی اللہ علیہ وسلم ساری امت کو دیکھ رہے ہیں ان کو اپنا بھائی فرمانا انتہائی کرم کریمانہ ہے،امت کو یہ جائز نہیں کہ حضور کو اپنا بھائی کہے۔بادشاہ اپنی رعایاسےکہتا ہے کہ میں آپ کا بھائی اور خادم ہوں لیکن اگر رعایا اسے خادم کہہ کر پکارے سزا پائے گی۔رب فرماتا ہے:"لَا تَجْعَلُوۡا دُعَآءَ الرَّسُوۡلِ"اَلْآیۃ۔
۴
؎یعنی تم بھائی بھی ہواورصحابی بھی اورجولوگ مسلمان آیندہ آنے والے ہیں وہ صرف بھائی ہوں گے صحابی نہ ہوں گے۔خیال رہے کہ بھائی ہونا ظاہری لحاظ سے ہے رشتۂ ایمانی کی بنا پر،ورنہ حضورامت کے لئے روحانی والدہیں،اوران کی بیویاں مسلمانوں کی مائیں ہیں نہ کہ بھاوجیں،رشتۂ ایمانی سے سگاباپ اور داد ا اسلامی بھائی ہیں،اورحقیقی ماں اوربیوی اسلامی بہنیں،مگر اس رشتہ کی بنا پر ان لوگوں کو نہ بھائی بہن کہا جاتا ہے،اور نہ ان پر بھائی بہن کے احکام مرتب،حتی کہ اگر بیوی کو بہن سے تشبیہ بھی دے تو ظہار ہوجاتا ہے،جس کی سزا میں ساٹھ روزے کفارہ واجب ہے۔تو جو حضور کو بھائی کہے اور سمجھے وہ بھی سخت سزا کا مستحق ہے۔
۵
؎صحابہ کا یہ سوال حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے علم کی نفی کی بنا پر نہیں،ذریعۂ علم کے متعلق ہے،یعنی جن مسلمانوں کو دنیا میں آپ نے زندگی شریف میں ظاہری نگاہ سے نہیں دیکھا انہیں کل قیامت میں کیسے پہچانیں گے اور کیسے شفاعت کریں گے،محض نورنبوت یا وحی سے کچھ ان میں علامتیں بھی ہوں گی جن سے ہم بھی پہچان سکیں ورنہ صحابہ کا تو یہ عقیدہ تھا کہ حضور کو اپنی ساری امت کے کھلے چھپے ایک ایک عمل کی خبر ہے۔حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنھا نے سوال کیا تھا کہ کیا آپ کی امت میں کسی کی نیکیاں آسمان کے تاروں کے برابر بھی ہیں؟فرمایا ہاں عمر کی،یہ سوال و جواب علیم وخبیرسے ہی ہوسکتے ہیں۔
۶
؎سبحان اللّٰه !کیا نفیس تمثیل ہے کہ جیسے پنج کلیان گھوڑا کالے گھوڑوں میں نہیں چھپتا ایسے ہی میری امت دیگر امتوں میں نہیں چھپے گی۔اس کا مطلب یہ نہیں کہ پچھلی امتوں کے سارے مؤمن سیاہ روہونگے،سیاہ روئی تو صرف کفار کے لیےہے۔مطلب یہ ہے کہ آثار وضوءکی خاص چمک صرف امت مصطفوی پر ہوگی۔
۷
؎حوض سے مراد حوض کوثر ہے جو ہمارے حضور کا ہے،اور نبیوں کے بھی حوض ہوں گے مگر کوثر کسی کا بھی نہیں۔فرطاسے کہتے ہیں جو آگے پہنچ کر انتظام فرمائے۔مطلب یہ ہے کہ کوثر پر ہم تم سے پہلے پہنچ کر تمہارا انتظام اورانتظار فرمائیں گے،تمہیں اپنے انتظام سے پانی پلائیں گے۔حوض کی پوری تحقیقان شاء اللّٰه"باب حوض"میں آئے گی۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 1 , حدیث نمبر: 298