- ہوم
- کتابیں
- مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح
- جلد 1
- پاکی کی کتاب
- حدیث نمبر 298
باب : پاکی کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 298
پاکی کی کتاب - جلد 1
-
- باب : پاکی کا بیان
- باب : وضو واجب کرنے والی چیزوں کا باب
- باب : پاخانے کے آداب کا باب
- باب : مسواک کا باب
- باب: وضوء کی سنتیں
- باب : نہانے کا بیان
- باب : جنبی سے اختلاط کا باب اور کیا چیزیں جنبی کو جائز ہیں
- باب : پانیوں کے احکام کا باب
- باب : نجاستوں کے پاک کرنے کاباب
- باب : موزوں پر مسح کرنے کا باب
- باب : تیمم کا بیان
- باب : مسنون غسل کا باب
- باب : حیض کا باب
- باب : مستحاضہ کاباب
-
- باب:سترہ کا بیان
- باب: نماز پڑھنے کا طریقہ
- باب: تکبیر کے بعد کیا پڑھیں
- باب:نماز میں قرأءت
- باب :رکوع
- باب:سجدہ اوراس کی بزرگی
- باب :التحیات
- باب :نبی صلی الله علیہ وسلم پر درود پڑھنے کی فضیلت
- باب :التحیات میں دعا
- باب : نماز کے بعد ذکر
- باب :نماز میں کون سے کام ناجائز اور کون سے کام مباح(جائز) ہیں
- باب: بھولنے کا بیان
- باب : قرآنی سجدے
- باب : ممانعت کے اوقات
- باب : جماعت اور اس کی فضیلت
- باب : صف سیدھی کرنا
- باب : جگہ کا بیان
- باب : امامت کا بیان
- باب : امام پر لازم امور
- باب : مقتدی پر پیروی واجب ہونے اور مسبوق ہونے كا حکم
- باب : دوبار نماز پڑھنے والے کا بیان
- باب : سنتیں اور ان کی فضیلت
- باب : رات کی نماز
- باب : جب رات میں اٹھے تو کیا کہے
- باب : رات میں اٹھنے کی ترغیب
- باب : عمل میں میانہ روی
- باب : وتر کا بیان
- باب : قنوت کا بیان
- باب : ماہ رمضان میں قیام
- با ب : چاشت کی نماز
- باب : نوافل کا بیان
- باب : تسبیح کی نماز
- باب : سفر کی نماز
- باب : جمعہ کا بیان
- باب : جمعہ واجب ہونے کا بیان
- باب : صفائی کرنا اورنماز جمعہ کیلئے جلدی جانے کا بیان
- باب : خطبہ اور نماز
- باب : خوف کی نماز
- باب : عیدین کی نماز
- باب : قربانی کابيان
- باب : عتیرہ کابیان
- باب : گرہن کی نماز
- باب : سجدۂ شکر کا بیان
- باب :بارش مانگنے کابیان
- باب : ہواؤں کا بیان
-
- باب:ارکان حج
- باب:احرام باندھنے تلبیہ کہنے کا باب
- باب :وداعی حج کا قصہ
- باب: مکہ کا داخلہ اور طواف
- باب: عرفہ میں ٹھہرنا
- باب: عرفہ اور مزدلفہ سے روانگی
- باب:رمی جمروں کی
- باب:ہدی کا باب
- باب:سر منڈانے کا باب
- باب:متفرقات
- باب: بقر عید کے دن کا خطبہ اور تشریق کے دنوں کی رمی اور رخصتی طواف
- باب: جن چیزوں سے محرم بچے
- باب :محرم شکار سے بچے
- باب: روکے اور حج چھوٹ جانے کا باب
- باب: مکہ معظمہ حرم اللّٰه اس کی حفاظت فرمائے
- باب :مدینہ منورہ کا حرم اللّٰہ اسے محفوظ رکھے
-
- باب: کمائی کرنا اور حلال روزی تلاش کرنا
- باب: معاملہ میں نرمی کرنا
- باب: اختیار کا باب
- باب:سود کا باب
- باب :جن تجارتوں سے ممانعت کی گئی
- باب:ممنوعہ تجارتوں کے متعلق بیان
- باب: سلم اور گروی کا باب
- باب:غلہ روکنے کا بیان
- باب: دیوالیہ کرنا اور مہلت دینا
- باب:شرکت اور وکالت کا باب
- باب:مال ہتھیا لینے اور مانگ کر لینے کا باب
- باب:شفعہ کا باب
- باب:پانی دینے اور کھیتی کرانے کا باب
- باب: کرایہ کا باب
- باب: بنجر زمین کا آباد کرنا اور پانی دینا
- باب: بخششوں کا باب
- باب : پچھلے باب کا تتمہ
- باب: پائی ہوئی چیز کا باب
- باب: میراث کے حصّے
- باب:وصیتوں کا باب
-
- باب:نکاح کا بیان
- باب :جس عورت کو پیغام دیا جائے اسے دیکھ لینااور ستر کا بیان
- باب : نکاح میں ولی کا بیان اور عورت سے اجازت لینے کا بیان
- باب:نکاح کا اعلان،خطبہ اورشرط کا بیان
- باب:حرام عورتوں کابیان
- باب:صحبت کرنے کا بیان
- باب: متفرق احادیث
- باب:مہر کا بیان
- باب:ولیمہ کا بیان
- باب:باری کا بیان
- باب:بیویوں سے رفاقت کا بیان اور ہر ایک کے حقوق کیا ہیں
- باب:خلع اور طلاق کا بیان
- باب:تین طلاق دی ہوئی عورت کا بیان
- باب:ہر کفارہ میں مؤمن غلام ہی آزاد کیا جائے نہ کہ کافر
- باب:لعان کا بیان
- باب:عدت کا بیان
- باب:استبراء کا بیان
- باب:خرچوں اور مملوکہ کے حق کا بیان
- باب:بچہ کی جوانی اور لڑکپن میں اس کی پرورش کا بیان
-
- باب:جہاد کا بیان
- باب:جہاد کے آلات تیار کرنے کا بیان
- باب :سفر کے آداب و طریقے
- باب:کفار کو فرمان لکھنا اور انہیں اسلام کی طرف دعوت دینا
- باب: جہاد میں قتل
- باب: قیدیوں کا حکم
- باب: امان کا بیان
- باب: غنیمتوں کی تقسیم اور ان میں خیانت کرنے کا بیان
- باب:جزیہ کابیان
- باب:صلح کا بیان
- باب:جزیرہ عرب سے یہودیوں کے نکالنے کا بیان
- باب:فئ کا بیان
-
- باب:سلام کا باب
- باب:اجازت لینے کا بیان
- باب:مصافحہ کرنے گلے لگنے کا باب
- باب:کھڑے ہونے کا باب
- باب:بیٹھنے سونے اور چلنے کا باب
- باب: چھینک اور جمائی کا بیان
- باب: ہنسنے کا باب
- باب:ناموں کا بیان
- باب:وعظ و شعر کا بیان
- باب:زبان کی حفاظت اور غیبت اور گالی کا بیان
- باب:وعدے کاباب
- باب:خوش طبعی کا بیان
- باب: فخر اور تعصب کا بیان
- باب:نیکی اور صلہ رحمی کا بیان
- باب:مخلوق پر شفقت و رحمت کا بیان
- باب:الله کی راہ میں محبت اور الله کی محبت کا بیان
- باب: اس کا بیان کہ مسلمانوں کو چھوڑے رکھنا ان کا بائیکاٹ کرنا اورچھپے عیوب کی تلاش ممنوع ہے
- باب:احتیاط کرنے اور کاموں میں اطمینان کا بیان
- باب:نرمی و شرم وغیرت اور اچھی عادت کا بیان
- باب:غصہ اورغرور کا بیان
- باب:ظلم کا بیان
- باب :نیک باتوں کا حکم دینا
-
- باب: دل کو نرم کردینے والی باتوں کا بیان
- باب : فقیروں کی بزرگی کا بیان ۱؎ اور نبی صلی الله علیہ و سلم کی زندگی شریف کیسی تھی ۲؎
- باب : امید اور حرص کا بیان
- باب : اطاعت کے لیے مال اور عمر کا بہتر ہونا
- باب : توکل اور صبر کا بیان
- باب : دکھلاوے اور شہرت کا بیان
- باب : رونے اور ڈرنے کا بیان
- باب : لوگوں میں تبدیلی کا بیان
- باب : متفرقات و ملحقات کا بیان
-
- باب:فتنوں کا بیان
- باب : لڑائیوں کا بیان
- باب : قیامت کی علامتوں کا بیان
- باب : قیامت کے سامنے والی علامات اور دجّال کا بیان
- باب : ابن صیاد کا قصہ
- باب : عیسیٰ علیہ السلام کی تشریف آوری
- باب : قیامت کا قریب ہونا اور جو مر گیا تو اس کی قیامت قائم ہوگئی
- باب : قیامت قائم نہ ہوگی مگر بد ترین لوگوں پر
- باب : صور پھونکے جانے کا بیان
- باب : حشر کا بیان
- باب : حساب،بدلہ،ترازو کا بیان
- باب : حوض ۱؎اور شفاعت کا بیان ۲؎
- باب : جنت اور جنت والوں کی صفات کا بیان
- باب : الله تعالٰی کے دیدار کا بیان
- باب : آگ اور آگ والوں کا بیان
- باب : جنت اور دوزخ کی پیدائش
- باب : پیدائش کی ابتداء،حضرات انبیاءکرام کا ذکر
-
- باب:کرامات کا بیان
- باب:صحابہ کرام کی ہجرت مدینہ اور حضور صلی الله علیہ وسلم کی وفات کے مقدمات
- باب: حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کا تتمہ
- باب:قریش کے فضائل اور قبائل کے ذکر کا بیان
- حضرات صحابہ کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر صدیق کے فضائل
- باب:حضرت عمر کے فضائل
- باب:حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کے فضائل
- باب:حضرت عثمان کے فضائل رضی اللہ عنہ
- باب:ان تینوں کے فضائل
- باب:حضرت علی ابن ابی طالب رضی الله عنہ کے فضائل
- باب:دس صحابہ کے فضائل رضی اللہ عنہم
- باب:نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے گھر والوں کے فضائل رضی اللہ عنہم اجمعین
- باب:نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں کے فضائل
- باب: منقبتوں کا مجموعہ
- باب:اس امت کے ثواب کا بیان
- باب:یمن اور شام کا ذکر ۱؎اور اویس قرنی کا تذکرہ ۲؎
حدیث مبارکہ
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَتَى الْمَقْبَرَةَ فَقَالَ: "السَّلَامُ عَلَيْكُمْ دَارَ قَوْمٍ مُؤْمِنِينَ، وَإِنَّا إِنْ شَاءَ اللّٰهُ بِكُمْ لَاحِقُوْنَ، وَدِدْتُ أَنَّا قَدْ رَأَيْنَا إِخْوَانَنَا"، قَالُوْا: أَوَلَسْنَا إِخْوَانَكَ يَا رَسُولَ اللهِ؟ قَالَ: "أَنْتُمْ أَصْحَابِي، وَإخْوَانُنَا الَّذِينَ لَمْ يَأْتُوا بَعْدُ"، فَقَالُوا: كَيْفَ تَعْرِفُ مَنْ لَمْ يَأْتِ بَعْدُ مِنْ أُمَّتِكَ يَا رَسُولَ اللهِ؟ فَقَالَ: "أَرَأَيْتَ لَوْ أَنَّ رَجُلًا لَهُ خَيْلٌ غُرٌّ مُحَجَّلَةٌ بَيْنَ ظَهْرَيْ خَيْلٍ دُهْمٍ بُهْمٍ أَلَا يَعْرِفُ خَيْلَهُ؟ "، قَالُوا: بَلٰی يَا رَسُولَ اللهِ، قَالَ: "فَإِنَّهُمْ يَأْتُوْنَ غُرًّا مُحَجَّلِيْنَ مِنَ الْوُضُوءِ، وَأَنَا فَرَطُهُمْ عَلَى الْحَوْضِ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ.
وعن أبي هريرة أن رسول الله -صلى الله عليه وسلم - أتى المقبرة فقال: "السلام عليكم دار قوم مؤمنين، وإنا إن شاء الله بكم لاحقون، وددت أنا قد رأينا إخواننا"، قالوا: أولسنا إخوانك يا رسول الله؟ قال: "أنتم أصحابي، وإخواننا الذين لم يأتوا بعد"، فقالوا: كيف تعرف من لم يأت بعد من أمتك يا رسول الله؟ فقال: "أرأيت لو أن رجلا له خيل غر محجلة بين ظهري خيل دهم بهم ألا يعرف خيله؟ "، قالوا: بلی يا رسول الله، قال: "فإنهم يأتون غرا محجلين من الوضوء، وأنا فرطهم على الحوض". رواه مسلم.
حدیث ترجمہ
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں کہ رسولاللہصلی اللہ علیہ وسلم قبرستان تشریف لے گئے تو فرمایا اے مؤمن قوم کی جماعت تم پر سلام ہو ۱؎ان شاءاللّٰهہم بھی تم سے ملنے والے ہیں ۲؎مجھے یہ تمنا ہے کہ اپنے بھائیوں کو دیکھتا ۳؎صحابہ نے عرض کیایارسولاللہکیا ہم آپ کے بھائی نہیں فرمایا تم میرے ساتھی دوست ہو،ہمارے بھائی وہ ہیں جو اب تک آئے نہیں ۴؎لوگوں نے عرض کیا،کیا آپ کے جو امتی اب تک نہیں آئے انہیں حضور کیسے پہچانیں گے؟۵؎فرمایا بتاؤ تو اگر کسی شخص کے گھوڑے پنج کلیان ہوں اور وہ نہایت سیاہ گھوڑوں میں مخلوط ہوگئے ہوں کیا یہ اپنے گھوڑے نہ پہچان لے گا ؟۶؎بولے ہاں یارسولاللہ!فرمایا وہ آثار وضو سے پنج کلیان آئیں گے اور میں حوض پر ان کا پیش رَوہوں گا ۷؎
شرح حدیث
۱∞؎مقبرہ سے مراد مدینہ منورہ کا قبرستان جنت البقیع ہے،جہاں حضور زیارت قبور کے لیے تشریف لے جاتے تھے۔دَارکے معنی گھر اور حویلی ہیں،اھلپوشیدہ ہے یعنی گھر والے۔مرقاۃ نے فرمایا عوام کی قبور پر پہنچ کر سلام کرنا سنت ہے،کیونکہ مردے زائرین کو دیکھتے ہیں،پہچانتے ہیں،اس کے کلام وسلام کو سنتے اورسمجھتے ہیں،کیونکہ نہ سننے والے اور نہ جواب دے سکنے والے کو سلام کرنا منع ہے،رب فرماتا ہے:"وَ اِذَا حُیِّیۡتُمۡ بِتَحِیَّۃٍ فَحَیُّوۡا بِاَحْسَنَ مِنْہَاۤ"الایۃ۔اس سےمعلوم ہوا کہ مردوں اورزندوں کوسلام یکساں کیا جائے یعنی اس طرح کہسلامپہلےعلیکمبعد میں،وہ جو حدیث میں ہے کہعلیکم السلاممردوں کا سلام ہے،اس سے مراد یہ ہے کہ جب مردے آپس میں ایک دوسرے سے ملتے ہیں تب یہ سلام کرتے ہیں لہذا یہ حدیث اس کے خلاف نہیں۔
۲؎یعنی عنقریب وفات پا کر تم سے ملاقات کریں گے۔ان شاءاللّٰهبرکت کے لیے فرمایا ورنہ موت تو یقینی ہے یا ایمان پر خاتمہ اورکسی خاص جگہ مرنا ہم لوگوں کے لیے مشکوک ہے۔یعنی اگراللہنے چاہا تو ہم ایمان پر مرکر مؤمنوں سے ملیں گے۔یہ سب کچھ امت کی تعلیم کے لیے ہے۔
۳؎یعنی آئندہ پیدا ہونے والے مسلمانوں سے حیات ظاہری میں ملاقات کرتا،ورنہ حضورصلی اللہ علیہ وسلم ساری امت کو دیکھ رہے ہیں ان کو اپنا بھائی فرمانا انتہائی کرم کریمانہ ہے،امت کو یہ جائز نہیں کہ حضور کو اپنا بھائی کہے۔بادشاہ اپنی رعایاسےکہتا ہے کہ میں آپ کا بھائی اور خادم ہوں لیکن اگر رعایا اسے خادم کہہ کر پکارے سزا پائے گی۔رب فرماتا ہے:"لَا تَجْعَلُوۡا دُعَآءَ الرَّسُوۡلِ"اَلْآیۃ۔
۴؎یعنی تم بھائی بھی ہواورصحابی بھی اورجولوگ مسلمان آیندہ آنے والے ہیں وہ صرف بھائی ہوں گے صحابی نہ ہوں گے۔خیال رہے کہ بھائی ہونا ظاہری لحاظ سے ہے رشتۂ ایمانی کی بنا پر،ورنہ حضورامت کے لئے روحانی والدہیں،اوران کی بیویاں مسلمانوں کی مائیں ہیں نہ کہ بھاوجیں،رشتۂ ایمانی سے سگاباپ اور داد ا اسلامی بھائی ہیں،اورحقیقی ماں اوربیوی اسلامی بہنیں،مگر اس رشتہ کی بنا پر ان لوگوں کو نہ بھائی بہن کہا جاتا ہے،اور نہ ان پر بھائی بہن کے احکام مرتب،حتی کہ اگر بیوی کو بہن سے تشبیہ بھی دے تو ظہار ہوجاتا ہے،جس کی سزا میں ساٹھ روزے کفارہ واجب ہے۔تو جو حضور کو بھائی کہے اور سمجھے وہ بھی سخت سزا کا مستحق ہے۔
۵؎صحابہ کا یہ سوال حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے علم کی نفی کی بنا پر نہیں،ذریعۂ علم کے متعلق ہے،یعنی جن مسلمانوں کو دنیا میں آپ نے زندگی شریف میں ظاہری نگاہ سے نہیں دیکھا انہیں کل قیامت میں کیسے پہچانیں گے اور کیسے شفاعت کریں گے،محض نورنبوت یا وحی سے کچھ ان میں علامتیں بھی ہوں گی جن سے ہم بھی پہچان سکیں ورنہ صحابہ کا تو یہ عقیدہ تھا کہ حضور کو اپنی ساری امت کے کھلے چھپے ایک ایک عمل کی خبر ہے۔حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنھا نے سوال کیا تھا کہ کیا آپ کی امت میں کسی کی نیکیاں آسمان کے تاروں کے برابر بھی ہیں؟فرمایا ہاں عمر کی،یہ سوال و جواب علیم وخبیرسے ہی ہوسکتے ہیں۔
۶؎سبحان اللّٰه !کیا نفیس تمثیل ہے کہ جیسے پنج کلیان گھوڑا کالے گھوڑوں میں نہیں چھپتا ایسے ہی میری امت دیگر امتوں میں نہیں چھپے گی۔اس کا مطلب یہ نہیں کہ پچھلی امتوں کے سارے مؤمن سیاہ روہونگے،سیاہ روئی تو صرف کفار کے لیےہے۔مطلب یہ ہے کہ آثار وضوءکی خاص چمک صرف امت مصطفوی پر ہوگی۔
۷؎حوض سے مراد حوض کوثر ہے جو ہمارے حضور کا ہے،اور نبیوں کے بھی حوض ہوں گے مگر کوثر کسی کا بھی نہیں۔فرطاسے کہتے ہیں جو آگے پہنچ کر انتظام فرمائے۔مطلب یہ ہے کہ کوثر پر ہم تم سے پہلے پہنچ کر تمہارا انتظام اورانتظار فرمائیں گے،تمہیں اپنے انتظام سے پانی پلائیں گے۔حوض کی پوری تحقیقان شاء اللّٰه"باب حوض"میں آئے گی۔
ماخذ و مراجع
کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 1 , حدیث نمبر: 298