Main Icon

باب : پاکی کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 284

پاکی کی کتاب - جلد 1

حدیث مبارکہ

وعَنْ عُثْمَانَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ الله -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ :"مَنْ تَوَضَّأَ فَأَحْسَنَ الْوُضُوءَ خَرَجَتْ خَطَايَاهُ مِنْ جَسَدِهٖ حَتَّى تَخْرُجَ مِنْ تَحْتِ أَظْفَارِهٖ". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

وعن عثمان قال: قال رسول الله -صلى الله عليه وسلم :"من توضأ فأحسن الوضوء خرجت خطاياه من جسده حتى تخرج من تحت أظفاره". متفق عليه.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عثمان سے فرماتے ہیں فرمایا رسولاللہصلی اللہ علیہ وسلم نے کہ جو وضو کرے تو اچھا وضوکرے اس کی خطائیں اس کےجسم سے نکل جاتی ہیں،تاآنکہ اس کے ناخنوں کے نیچے سے نکل جاتی ہیں ۱؎(مسلم،بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎یہاں اچھے وضوءسے مرادسنتوں اورمستحبات کے ساتھ وضوءکرنا ہے اور خطاؤں سے گناہ صغیرہ کیونکہ گناہ کبیرہ تو بہ کے بغیر اور حقوق العباد صاحب حق کی معافی کے بغیر معاف نہیں ہوتےیعنی جو شخص اچھا وضوء کیا کرے تو اس کے سارے اعضاء کے گناہ اس پانی کے ساتھ نکل جاتے ہیں۔
لطیفہ:ہم گنہگاروں کے وضوء کا غسالہ ماءمستعمل ہے جس سے دوبارہ وضو نہیں ہوسکتا اور اس کا پینا مکروہ،کیونکہ یہ ہمارے گناہ لے کر نکل جاتا ہے،مگر حضور کے وضوء کا غسالہ بلکہ پاؤں شریف کا دھوون متبرک ہے،کیونکہ وہ اعضاء طیبہ میں سے نور لے کر نکلا ہے،ہمارا غسالہ بہت سی بیماریاں خصوصًا مرگی پیدا کرتا ہے،حضور کا غسالہ بیماریاں دور کرتا ہے،رب فرماتاہے:"
اُرْکُضْ بِرِجْلِکَ ھٰذَا مُغْتَسَلٌۢ بَارِدٌ وَّ شَرَابٌ" آب زمزم حضرت اسماعیل کے پاؤں گا گویا دھوون ہے جس میں ہمارے حضور کی کُلی پڑی ہوئی ہے ہم سب کے لیئے شفا ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 1 , حدیث نمبر: 284