Main Icon

باب : پاکی کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 290

پاکی کی کتاب - جلد 1

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ الله -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "إِنَّ أُمَّتِي يُدْعَوْنَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ غُرًّا مُحَجَّلِينَ مِنْ آثَارِ الْوُضُوءِ، فَمَنِ اسْتَطَاعَ مِنْكُمْ أَنْ يُطِيلَ غُرَّتَه فَلْيفْعَلْ". مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.

وعن أبي هريرة قال: قال رسول الله -صلى الله عليه وسلم -: "إن أمتي يدعون يوم القيامة غرا محجلين من آثار الوضوء، فمن استطاع منكم أن يطيل غرته فليفعل". متفق عليه.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسولاللہصلی اللہ علیہ وسلم نے کہ میری امت قیامت کے دن پنج کِلیان بلائی جائے گی آثار وضو سے ۱؎تو جو اپنی چمک دمک دراز کرسکے تو کرے ۲؎(مسلم،بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎پنج کلیان وہ سرخ یا سیاہ گھوڑا ہے جس کے چاروں ہاتھ،پاؤں اور پیشانی سفیدہوں یہ بہت قیمتی خوب صورت اور طاقتور ہوتا ہے۔امت سے مراد سارے نمازی مسلمان ہیں کہ قیامت میں انکاچہرہ اور ہاتھ،پاؤں آثارِ وضوءسے چمکتے ہوں گے۔خیال رہے کہ اگرچہ پچھلی امتوں نے بھی وضوء کیا مگر یہ نور صرف امت محمدی پر ہوگا،نیز جو صحابہ نماز کی فرضیت سے پہلے وفات پا گئے،یااب مسلمانوں کے چھوٹے بچے،یااسلام قبول کرتے ہی فوت ہوجانے والے لوگ جنہیں نماز اور وضوکا وقت ہی نہ ملا ان پر بھیان شاءاللهیہ آثارِ وضوء ہوں گےکیونکہ وہ نمازیوں کے گروہ سے تو ہیں۔ہاں بے نمازی،فساق جنہوں نے بلاوجہ نماز نہ پڑھنے کی عادت ڈال لی وہ سزاءً اس سےمحروم ہوں گے۔خیال رہے کہ حضور کا اپنی امت کو پہچاننا اس نورپرموقوف نہ ہوگا کیونکہ آپ نیک کارنورانیوں کوبھی پہچانیں گے اورگنہگارظلمانیوں کوبھی۔
۲
؎غالبًا یہ آخری جملہ سیدنا ابوہریرہ کا ہے۔مطلب یہ ہے کہ اعضائے وضوءحدمفروض سے زیادہ دھوئے تاکہ روشنی اور چمک لمبی ہو اورممکن ہے کہ سرکار کا فرمان ہو۔مطلب یہ ہے اعضائے وضوء حد سے کم نہ دھوؤ،زیادہ کچھ دھل جائیں تو کوئی مضائقہ نہیں۔خیال رہے کہغرّہچہرے کی سفیدی کو کہتے ہیں اورتحجیلہاتھ پاؤں کی سفیدی کو۔چونکہ اکثر لوگ چہرہ دھونے میں بے احتیاطی کرتے ہیں کہ کنپٹی وغیرہ خشک رہ جاتی ہے لہذا اس کا ذکر خصوصیت سے فرمایا۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 1 , حدیث نمبر: 290