Main Icon

باب : پاکی کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 288

پاکی کی کتاب - جلد 1

حدیث مبارکہ

وَعَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : «مَا مِنْ مُسْلِمٍ يَتَوَضَّأُ فَيُحْسِنُ وُضُوءَهٗ ثُمَّ يَقُوْمُ فَيُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ مُقْبِلاً عَلَيْهِمَا بِقَلْبِهٖ وَوَجْهِهٖ إِلَّا وَجَبَتْ لَهُ الْجَنَّةُ» . رَوَاهُ مُسْلِمٌ

وعن عقبة بن عامر قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : «ما من مسلم يتوضأ فيحسن وضوءه ثم يقوم فيصلي ركعتين مقبلا عليهما بقلبه ووجهه إلا وجبت له الجنة» . رواه مسلم

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عقبہ ابن عامر سے ۱؎فرماتے ہیں فرمایا رسولاللہصلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا کوئی مسلمان نہیں جو وضو کرے تو اچھا کرے پھر کھڑے ہوکردونفل دل اور منہ سے متوجہ ہوکر پڑھے۲؎مگر اس کے لیے جنت واجب ہوجاتی ہے ۳؎(مسلم)

شرح حدیث

۱∞؎آپ مشہور صحابی ہیں،آپ امیرمعاویہ کی طرف سے حاکم مصر تھے اپنے بھائی عتبہ ابن ابی سفیان کے بعد،پھر اگرچہ معزول کردیئے گئے مگر مصر میں ہی قیام رہا، ۵۸ھمیں وہیں وفات ہوئی۔
۲
؎یعنی ظاہروباطن یکسو کرکےکہ نہ جسم سے کھیلے،نہ ادھر ادھر دیکھے،نہ دل کو اورطرف لگائے۔
۳
؎رب کے فضل وکرم سے اس طرح کہ دنیا میں اسے نیک اعمال کی توفیق ملتی ہے،مرتے وقت ایمان پر قائم رہتا ہے،قبروحشر میں آسانی سے پاس ہوتا ہے۔حدیث کا مطلب یہ نہیں کہ صرف وضوکرلینے اورتحیۃ الوضوءکے دونفل پڑھ لینے سےجنتی ہوگیا اب کسی عمل کی ضرورت نہ رہی اس قسم کی احادیث کا یہی مطلب ہوتا ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 1 , حدیث نمبر: 288