Main Icon

باب : پاکی کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 296

پاکی کی کتاب - جلد 1

حدیث مبارکہ

وَعَنْ رَجُلٍ مِنْ بَنِي سُلَيْمٍ قَالَ: عَدَّهُنَّ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي يَدِيْ أَوْ فِي يَدِهٖ قَالَ: "التَّسْبِيْحُ نِصْفُ الْمِيزَانِ، وَالْحَمْدُ لِلّٰهِ يَمْلَؤُهٗ، وَالتَّكْبِيرُ يَمْلأُ مَا بَيْنَ السَّمَاءِ وَالأَرْضِ،وَالصَّوْمُ نِصْفُ الصَّبْرِ، وَالطُّهُورُ نِصْفُ الإِيْمَانِ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هٰذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ.

وعن رجل من بني سليم قال: عدهن رسول الله صلى الله عليه وسلم في يدي أو في يده قال: "التسبيح نصف الميزان، والحمد لله يملؤه، والتكبير يملأ ما بين السماء والأرض،والصوم نصف الصبر، والطهور نصف الإيمان". رواه الترمذي وقال: هذا حديث حسن.

حدیث ترجمہ

روایت ہے بنی سُلَیم کے ایک صاحب سے ۱؎فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے یا اپنے ہاتھ یہ چیزیں گنائیں فرمایا تسبیح آدھی ترازو ہے اورالحمدﷲاسے بھردے گی ۲؎اور تکبیر آسمان و زمین کے درمیان کو بھر دیتی ہے اور روزہ آدھا صبرہے ۳؎اور پاکی آدھا ایمان ہے اسے ترمذی نے روایت کیااورفرمایا یہ حدیث حسن ہے۔

شرح حدیث

۱∞؎ہم ابھی عرض کرچکے ہیں کہ سارے صحابہ عادل ہیں۔لہذا ان کا نام معلوم نہ ہونا مضر نہیں۔
۲
؎اس کی شرح گزر چکی کہ نیکیوں کا پلہ ان دوکلموں کے ثواب سے بھر جائے گا اس لیئے کہ تسبیح میںاللہکی بے عیبی کا اقرار ہے اورحمد میں اس کے صفات کمالیہ کا اظہار۔
۳
؎کیونکہ حلق اور شرمگاہ کو روزہ روکتا ہےباقی اعضاءکو دوسرا صبر،یا ظاہری گناہ سے روزہ روکتا ہے،باطنی گناہوں سے دوسرا صبریا ایمان طاعت پھر اور گناہوں سے صبرکراتا ہے جس کا سبب نفس کی شہوت ہے اور روزے سے ٹوٹتی ہے۔مطلب یہ ہے کہ تمام قسم کے صبر ایک جانب اور روزہ ایک جانب۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 1 , حدیث نمبر: 296