Main Icon

باب : پاکی کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 286

پاکی کی کتاب - جلد 1

حدیث مبارکہ

وَعَنْ عُثْمَانَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ الله -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:"مَا مِنِ امْرِئٍ مُسْلِمٍ تَحْضُرُهُ صَلَاةٌ مَكْتُوبَةٌ. فَيُحْسِنُ وُضُوءَهَا وَخُشُوعَهَا وَرُكُوعَهَا إِلَّا كَانَتْ كَفَّارَةً لِمَا قَبْلَهَا مِنَ الذُّنُوبِ مَا لَمْ يُؤْتِ كَبِيرَةً،وَذٰلِكَ الدَّهْرَ كُلَّهُ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ.

وعن عثمان قال: قال رسول الله -صلى الله عليه وسلم:"ما من امرئ مسلم تحضره صلاة مكتوبة. فيحسن وضوءها وخشوعها وركوعها إلا كانت كفارة لما قبلها من الذنوب ما لم يؤت كبيرة،وذلك الدهر كله". رواه مسلم.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت عثمان سے فرماتے ہیں فرمایا رسولاللہصلی اللہ علیہ وسلم نے کہ ایسا کوئی مسلمان نہیں کہ جس پر فرض نماز آئے ۱؎تو اس کا وضو وخشوع ورکوع اچھی طرح کرے۲؎مگر یہ اس کے پچھلے گناہوں کا کفارہ ہوجاتا ہے،جب تک کہ گناہ کبیرہ نہ کیا ہو۳؎یہ ہمیشہ ہی ہوتا ہے ۴؎(مسلم)

شرح حدیث

۱∞؎یعنی نماز پنجگانہ اور جمعہ۔خیال رہے کہ فرض کا ذکر احترازی نہیں،کیونکہ نماز تہجد و اشراق وعیدین کے وضو کا بھی یہی حال ہے۔چونکہ اکثر وضو نماز پنجگانہ کے لیئے ہی ہوتے ہیں اس لیئے ان کا ہی ذکر فرمایا،نیز اگر کوئی وقت سے پہلے وضو کرے تب بھی یہی ثواب ہوگا۔
۲
؎نماز کا خشوع یہ ہے کہ اس کا ہر رکن صحیح ادا کرے،دل میں عاجزی اور خوف خدا ہو،نگاہ اپنے ٹھکانے پر رہےکہ قیام میں سجدہ گاہ،رکوع میں پاؤں کی پشت،سجدہ میں ناک کے نتھنےاور قعدہ میں گود میں رہے۔خشوع نماز کی روح ہے،رب فرماتاہے:"ھُمْ فِیۡ صَلَاتِہِمْ خٰشِعُوۡنَ"صرف رکوع کا اس لئے ذکر فرمایا کہ یہ سجدہ کا پیش خیمہ ہے اور بمقابلۂ سجدہ کے اس میں مشقت زیادہ ہے،نیز یہ مسلمانوں کی نمازوں کا خاصہ ہے،یہودونصاریٰ کی نمازوں میں نہ تھا،اس کے ملنے سے رکعت مل جاتی ہے،نیز رکوع مستقل عبادت نہیں،صرف نماز ہی میں عبادت ہےاورسجدہ نماز کے علاوہ بھی عبادت ہے۔جیسے سجدۂ شکر،سجدۂ تلاوت وغیرہ۔
۳
؎یعنی اس سے گناہ کبیرہ معاف نہیں ہوتے صرف صغیرہ معاف ہوتے ہیں،لہذا یہ حدیث گزشتہ احادیث کی تفسیر ہے۔اس کا یہ مطلب نہیں کہ گناہ کبیرہ والے کے صغیرہ بھی معاف نہیں ہوتے۔(لمعات)
۴
؎یعنی یہ ثواب کسی خاص نماز کا نہیں بلکہ عمر میں ہرنماز کا ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 1 , حدیث نمبر: 286