Main Icon

باب : پاکی کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 292

پاکی کی کتاب - جلد 1

حدیث مبارکہ

عَنْ ثَوْبَانَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "اِسْتَقِيْمُوْا وَلَنْ تُحْصُوْا، وَاعْلَمُوْا أَنَّ خَيْرَ أَعْمَالِكُمُ الصَّلَاةُ، وَلَا يُحَافِظُ عَلَى الْوُضُوءِ إِلَّا مُؤْمِنٌ". رَوَاهُ مَالِكٌ وَأَحْمَدُ وَابْنُ مَاجَهْ وَالدَّارِمِيُّ.

عن ثوبان قال: قال رسول الله -صلى الله عليه وسلم: "استقيموا ولن تحصوا، واعلموا أن خير أعمالكم الصلاة، ولا يحافظ على الوضوء إلا مؤمن". رواه مالك وأحمد وابن ماجه والدارمي.

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ثوبان سے ۱؎فرماتے ہیں فرمایا رسولاللہصلی اللہ علیہ وسلم نے کہ سیدھے رہو مگر تم یہ کر نہ سکو گے۲؎اور جان رکھو کہ تمہارا بہترین عمل نماز ہے ۳؎اور وضوءکی حفاظت مؤمن ہی کرتا ہے ۴؎اسے مالک،احمد،ابن ماجہ،اور دارمی نے روایت کیا۔

شرح حدیث

۱ ∞؎آپ کا نام ثوبان ابنبُجْدَدْ،کنیت ابو عبداللہہے،حضور کے آزاد کردہ غلام ہیں،ہمیشہ سفر و حضر میں حضور کے ساتھ رہے،حضور کے بعد اولًا شام میں،پھر حمص میں قیام فرمایا،۵۴ ھمیں وفات پائی۔
۲
؎یعنی عقائد،عبادات اور معاملات میں ٹھیک رہو ادھر ادھر نہ بہکو،لیکن پوری درستی طاقت انسانی سے باہر ہے۔لہذا بقدر طاقت درست رہو اور کوتاہیوں کی معافی چاہتے رہو،یا یہ مطلب ہے کہ استقامت کا ثواب تم شمار نہ کرسکو گے۔اِحْصَاءبمعنے کنکریوں پر گننا،تھوڑی چیز پوروں پر اور زیادہ چیز کنکروں پر گنی جاتی ہے،جو کنکر پر بھی نہ گنی جائے وہ شمار سے باہر ہوتی ہے۔
۳
؎کیونکہ اسلام میں سب سے پہلے نماز ہی فرض ہوئی،سارے اعمال فرش پر آئے مگر نماز عرش پر بلا کردی گئی،جس نے نماز درست کرلیان شاءاللّٰهاس کے سارے اعمال درست ہوجائیں گے،نیز نماز بہت سی عبادات کا مجموعہ اور سارے گناہوں سے بچانے والی ہے کہ بحالت نمازجھوٹ،غیبت وغیرہ کچھ نہیں ہوسکتی۔
۴
؎یعنی ہمیشہ باوضو رہنایاہمیشہ صحیح وضو کرنا کامل مؤمن کی پہچان ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 1 , حدیث نمبر: 292