Main Icon

باب : پاکی کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 287

پاکی کی کتاب - جلد 1

حدیث مبارکہ

وَعَنْهُ أَنَّهُ تَوَضَّأَ فَأَفْرَغَ عَلٰى يَدَيْهِ ثَلَاثًا، ثُمَّ تَمَضْمَضَ وَاسْتَنْثَرَ، ثُمَّ غَسَلَ وَجْهَهٗ ثَلَاثًا، ثُمَّ غَسَلَ يَدَهُ الْيُمْنٰى إِلَى الْمَرْفِقِ ثَلَاثًا، ثُمَّ غَسَلَ يَدَهُ الْيُسْرٰى إِلَى الْمَرافِقِ ثَلَاثًا، ثُمَّ مَسَحَ بِرَأْسِهٖ، ثُمَّ غَسَلَ رِجْلَهُ الْيُمْنٰى ثَلَاثًا، ثُمَّ الْيُسْرٰى ثَلَاثًا،ثُمَّ قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ -صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - تَوَضَّأَ نَحْوَ وُضُوئِيْ هٰذَا، ثُمَّ قَالَ: "مَنْ تَوَضَّأَ وُضُوئِي هٰذَا ثُمَّ يُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ لَا يُحَدِّثُ نَفْسَهٗ فِيهِمَا بِشَيْءٍ، غُفِرَ لَهٗ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهٖ". مُتَّفقٌ عَلَيْهِ. وَلَفْظُهٗ للْبُخَارِيِّ.

وعنه أنه توضأ فأفرغ على يديه ثلاثا، ثم تمضمض واستنثر، ثم غسل وجهه ثلاثا، ثم غسل يده اليمنى إلى المرفق ثلاثا، ثم غسل يده اليسرى إلى المرافق ثلاثا، ثم مسح برأسه، ثم غسل رجله اليمنى ثلاثا، ثم اليسرى ثلاثا،ثم قال: رأيت رسول الله -صلى الله عليه وسلم - توضأ نحو وضوئي هذا، ثم قال: "من توضأ وضوئي هذا ثم يصلي ركعتين لا يحدث نفسه فيهما بشيء، غفر له ما تقدم من ذنبه". متفق عليه. ولفظه للبخاري.

حدیث ترجمہ

روایت ہے انہی سے کہ آنجناب نے وضو کیا تو ہاتھوں پر تین بار پانی بہایا پھر کلی کی ناک میں پانی لیا ۱؎پھرتین بارچہرہ دھویا پھرکہنی تک داہنا ہاتھ تین بار پھربایاں ہاتھ تین بار دھویاکہنی تک پھر سر کا مسح کیا ۲؎پھرداہنا پھر بایاں پاؤں تین تین بار دھوئے پھر فرمایا کہ میں نے رسولاللہصلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ نے میرے وضو کی طرح وضو کیا۳؎پھر فرمایا جو میری طرح وضوءکرے پھر دو نفل پڑھ لے جن میں اپنے دل سے کچھ باتیں نہ کرے تو اس کے پچھلے گزشتہ گناہ بخش دیئے جائیں گے۴؎(مسلم،بخاری)اور لفظ بخاری کے ہیں۔

شرح حدیث

۱∞؎اس طرح کہ پہلے تین کلیاں کرلیں،پھر تین بار ناک میں پانی لےکر صاف کی جیسے کہ اور اعضاء کی ترتیب میں ہے،لہذا یہ حدیث حنفیوں کی دلیل ہے۔شافعی لوگ ایک چلو کے آدھے سے کلی اور آدھے سے ناک میں پانی لیتے ہیں یعنی ان کے ہاں فرد فرد کے پیچھے ہے ہمارے ہاں نوع نوع سے پیچھے۔
۲
؎اس سے دو مسئلےمعلوم ہوئے:ایک یہ کہ ہاتھ مع کہنی دھونے چاہئیں۔دوسرے یہ کہ سر کا مسح صرف ایک بارہوکیونکہ دھونے میں تین کا ذکر ہے مسح میں نہیں،نیز اگرمسح تین بار کیا جائے تو وہ دھونا ہوجائے گا،یہی امام اعظم کا مذہب ہے۔شوافع کے یہاں مسح بھی تین بار ہوگا،یہ حدیث ان کے خلاف ہے۔
۳
؎چونکہ حضرت عثمان غنی کا وضو ان لوگوں کے سامنے تھا اورحضور کا وضو ان لوگوں سے مخفی اسی لئے آپ نے اس طرح فرمایا۔ورنہ حقیقت یہ ہے کہ عثمان کا وضو حضور کے وضو کی مثل تھا نہ کہ حضور کا وضو آپ کے وضو کی مثل۔
۴
؎یعنی وضو کے بعد دو نفلتحیۃ الوضوپڑھے جب کہ نفل مکروہ نہ ہوں اور اگر نفل مکروہ ہوں جیسے فجر اور مغرب کا وضو،تو وضو کے بعد فرض نماز میںتحیۃ الوضواورتحیۃ المسجدکا بھی ثواب مل جائے گا۔(مرقاۃ)لَایُحَدِّثُفرماکر یہ بتایا کہ عمداً اور طرف خیال نہ دوڑائے،بلا قصد خطرات معاف ہیں۔جیسا کہ لمعات اور مرقاۃ میں ہےبشرطیکہ دفع کی کوشش کرتا رہے۔گناہ سے مراد گناہ صغیرہ ہیں اور بے گناہ لوگوں کے درجے بلند ہوتے ہیں،کیونکہ جو کام گنہگاروں کے لئے معافی کا ذریعہ ہے وہ نیک کاروں کی ترقی کا سبب۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 1 , حدیث نمبر: 287