Main Icon

باب : امامت کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1128

نماز کا بیان - جلد 2

حدیث مبارکہ

وَعَنْ ابْن عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " ثَلَاثَةٌ لَا تُرْفَعُ لَهُمْ صَلَاتُهُمْ فَوْقَ رُؤُوْسِهِمْ شِبْرًا: رَجُلٌ أَمَّ قَوْمًا وَهُمْ لَهٗ كَارِهُونَ وَامْرَأَةٌ بَاتَتْ وَزَوْجُهَا عَلَيْهَا سَاخِطٌ وَأَخَوَانِ مُتَصَارِمَانِ ". رَوَاهُ ابْنُ مَاجَه

وعن ابن عباس قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : " ثلاثة لا ترفع لهم صلاتهم فوق رؤوسهم شبرا: رجل أم قوما وهم له كارهون وامرأة باتت وزوجها عليها ساخط وأخوان متصارمان ". رواه ابن ماجه

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابن عباس سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ تین شخص ہیں جن کی نماز ان کے سروں سے بالشت بھر اونچی نہیں اٹھتی وہ شخص جو کسی قوم کی امامت کرے جو اس سے ناراض ہوں اور وہ عورت جو رات گزارے حالانکہ اس کا خاوند اس پر ناراض ہو اور دو بائیکاٹ کرنے والے مسلمان بھائی ۱؎(ابن ماجہ)

شرح حدیث

۱∞؎یعنی جو دو مسلمان دنیاوی وجہ سے ایک دوسرے سے قطع تعلق کرچکے ہوں ان دونوں کو امام نہ بناؤں تاکہ اس وجہ سے وہ آپس میں صلح صفائی کرلیں۔خیال رہے کہ دینی وجہ سے بائیکاٹ عین عبادت ہےجیسے ہم مرزائیوں وغیرہ سے دور رہیں ایسے ہی کسی کی اصلاح کے لیئے اس کا بائیکاٹ کرنا جائز،نبی صلی الله علیہ وسلم اور تمام صحابہ نے حضرت کعب ابن مالک کا کچھ سکھانے کے لیئے چالیس دن بائیکاٹ کیا، لہذا یہ حدیث اپنے عموم پر ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 2 , حدیث نمبر: 1128