Main Icon

باب : امامت کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1123

نماز کا بیان - جلد 2

حدیث مبارکہ

وَعَنْ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " ثَلَاثَةٌ لَا تُقْبَلُ مِنْهُمْ صَلَاتُهُمْ: مَنْ تَقَدَّمَ قَوْمًا وَهُمْ لَهٗ كَارِهُونَ وَرَجُلٌ أَتَى الصَّلَاةَ دِبَارًا وَالدِّبَارُ: أَنْ يَأْتِيَهَا بَعْدَ أَنْ تَفُوتَهٗ وَرَجُلٌ اعْتَبَدَ مُحَرَّرَةً ".رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَابْنُ مَاجَه

وعن ابن عمر قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : " ثلاثة لا تقبل منهم صلاتهم: من تقدم قوما وهم له كارهون ورجل أتى الصلاة دبارا والدبار: أن يأتيها بعد أن تفوته ورجل اعتبد محررة ".رواه أبو داود وابن ماجه

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابن عمر سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ تین شخص ہیں جن کی نماز قبول نہیں ہوتی جو کسی قوم کے آگے کھڑا ہوجائے حالانکہ وہ اسے ناپسند کرتے ہوں اور وہ شخص جو نماز میں پیچھے آئے یہ کہ فوت ہونے کے بعد آئے ۱؎اور وہ شخص جو کسی آزاد کو غلام بنالے ۲؎(ابوداؤد،ابن ماجہ)

شرح حدیث

۱∞؎یعنی نماز قضا کردینے یا بلاوجہ جماعت چھوڑ دینے کا عادی ہوگیا ہو۔اس سے معلوم ہوا کہ جماعت واجب ہے اس کے چھوڑنے کی عادت فسق ہے۔
۲
؎مُحَرَّرَۃً رَقَبَۃًپوشیدہ کی صفت ہے،۔آزاد کو غلام بنانے کی دو صورتیں ہیں:ایک یہ کہ ظلمًا آزاد کو پکڑ کر غلام بنالیا جائے جیسے یوسف علیہ السلام کے بھائیوں نے آپ کے ساتھ کیا۔دوسرے یہ کہ اپنے غلام کو خفیہ طور پر آزاد کرکے پھر غلام بنالیا جائے۔غلام ثبوت نہ ہونے کی وجہ سے کچھ نہ کہہ سکے،ایسے ظالم کی نماز کیسے قبول ہوسکتی ہے۔چونکہ عرب میں اسلام سے پہلے اس قسم کی حرکتیں عام ہوتی تھیں اس لیے یہ وعید ارشاد فرمائی گئی۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 2 , حدیث نمبر: 1123