Main Icon

باب : امامت کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1121

نماز کا بیان - جلد 2

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: اسْتَخْلَفَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ابْنَ أُمِّ مَكْتُومٍ يَؤُمُّ النَّاسَ وَهُوَ أَعْمٰى. رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ

وعن أنس قال: استخلف رسول الله صلى الله عليه وسلم ابن أم مكتوم يؤم الناس وهو أعمى. رواه أبو داود

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت انس سے فرماتے ہیں کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے ابن ام مکتوم کو اپنا نائب کیا تاکہ لوگوں کو نماز پڑھائیں حالانکہ وہ نابینا تھا ۱؎(ابوداؤد)

شرح حدیث

۱∞؎یعنی جب آپ غزوۂ تبوک میں تشریف لے گئے،تو حضرت علی مرتضٰی کو مدینہ منورہ کی حفاظت اہل وعیال کی نگہداشت دشمنوں کے انتظام کا خلیفہ بنا گئے اور عبد الله ابن ام مکتوم کو نماز کی امامت کا چونکہ علی مرتضیٰ اتنی ذمہ داریوں کے ہوتے امامت کے فرائض انجام نہیں دے سکتے تھے اس لیے آپ پر پابندی نہیں لگائی گئی اور چونکہ باقی لوگوں میں عبد الله ابن ام مکتوم کے برابر کوئی عالم نہ تھا اس لیے باوجود نابینا ہونے کے آپ کو امام بنایا گیا۔خیال رہے کہ حضرت ابن ام مکتوم کی امامت اتفاقی تھی مگر صدیق اکبر کی امامت اتفاقی نہ تھی وہاں تو حضور انورصلی الله علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ جس قوم میں ابوبکر ہوں وہاں کسی اور کو امامت کا حق نہیں لہذا صدیق اکبر کی امامت ان کی خلافت کی دلیل تھی،مگر یہ امامت خلافت کی دلیل نہیں۔فقیر کی اس تقریر سے اس حدیث پر سے حسب ذیل اعتراضات اٹھ گئے:(۱)یہ حدیث صحیح نہیں کیونکہ حضور انورصلی الله علیہ وسلم نے اس موقعہ پر علی مرتضیٰ کو خلیفہ بنایا تھا یہ حدیث اس کے خلاف ہے۔(۲)علی مرتضیٰ جیسے فقیہ و عالم کی موجودگی میں انہیں امام کیوں بنایا گیا۔(۳)نابینا کی امامت مکروہ ہے پھر انہیں امام کیوں بنایا گیا۔(۴)معلوم ہوا کہ صدیق اکبر کو نماز کا امام بناناآپ کی خلافت کی دلیل نہیں،ورنہ ابن ام امکتوم بھی خلیفہ ہونے چاہئیں۔ خیال رہے کہ نابینا کی امامت مکروہ نہیں صرف خلاف اولیٰ ہے مگر جب نابینا عالم قوم ہو تو خلاف اولیٰ بھی نہیں حضور صلی الله علیہ وسلم نے ابن ام مکتوم کو دوبارہ اپنا خلیفہ بنایا ہے،بعض نے فرمایا کہ اس امت میںعبس وتولیٰوالے واقعہ کا بدلہ کرنا مقصود تھا۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 2 , حدیث نمبر: 1121