Main Icon

باب : امامت کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1120

نماز کا بیان - جلد 2

حدیث مبارکہ

وَعَنْ أَبِي عَطِيَّةَ الْعُقَيْلِيِّ قَالَ: كَانَ مَالِكُ بنُ الْحُوَيْرِثِ يَأْتِينَا إِلٰى مُصَلَّانَا يَتَحَدَّثُ فَحَضَرَتِ الصَّلَاةُ يَوْمًا قَالَ أَبُو عَطِيَّةَ: فَقُلْنَا لَهٗ : تَقَدَّمَ فَصْلُهٗ. قَالَ لَنَا قَدِّمُوا رَجُلًا مِنْكُمْ يُصَلِّي بِكُمْ وَسَأُحَدِّثُكُمْ لِمَ لَا أُصَلِّي بِكُمْ؟ سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «مَنْ زَارَ قَوْمًا فَلَا يَؤُمُّهُمْ وَلِيَؤُمُّهُمْ رَجُلٌ مِنْهُم» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَالتِّرْمِذِيْ وَالنَّسَائِيُّ إِلَّا أَنَّهٗ اقْتَصَرَ عَلیٰ لَفْظِ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

وعن أبي عطية العقيلي قال: كان مالك بن الحويرث يأتينا إلى مصلانا يتحدث فحضرت الصلاة يوما قال أبو عطية: فقلنا له : تقدم فصله. قال لنا قدموا رجلا منكم يصلي بكم وسأحدثكم لم لا أصلي بكم؟ سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: «من زار قوما فلا يؤمهم وليؤمهم رجل منهم» . رواه أبو داود والترمذي والنسائي إلا أنه اقتصر علی لفظ النبي صلى الله عليه وسلم

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابو عطیہ عقیلی سے فرماتے ہیں کہ مالک ابن حویرث ۱؎ہمارے پاس ہماری مسجد میں آتے اور بات چیت کیا کرتے تھے ایک دن نماز کا وقت آگیا ابو عطیہ کہتے ہیں کہ ہم نے ان سے کہا آگے بڑھیے نماز پڑھائیے وہ بولے کہ تم اپنے کسی آدمی کو آگے بڑھاؤ جو تمہیں نماز پڑھائے اور میں بتاؤں گا کہ میں نماز کیوں نہیں پڑھاتا میں نے نبی کریم صلی الله علیہ وسلم کو فرماتے سنا کہ جو کسی قوم کی ملاقات کو جائے وہ ان کی امامت نہ کرے ان کی امامت انہیں میں کا کوئی کرے ۲؎(ابوداؤد، ترمذی،نسائی)مگر نسائی نے نبی کریم صلی الله علیہ وسلم کے لفظ پر کفایت کی۔

شرح حدیث

۱∞؎آپ صحابی ہیں،صرف ۲۰ روزحضورصلی الله علیہ وسلم کی خدمت میں رہے، بصرہ میں قیام ر ہا،۹۴ھ ∞میں، وہیں وفات پائی۔
۲
؎مالک ابن حویرث کو پوری حدیث نہ پہنچی،وہاں یہ تھا کہ ان کی بغیر اجازت امامت نہ کرے،اس لیے آپ نے اجازت کے باوجود نما ز نہ پڑھائی، یہ ہے صحابہ کا انتہائی تقویٰ،شارحین نے اس کے اور وجوہ بیان کیے ہیں مگر یہ وجہ بہت قوی ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 2 , حدیث نمبر: 1120