Main Icon

باب : امامت کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1127

نماز کا بیان - جلد 2

حدیث مبارکہ

وَعَنْ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: لَمَّا قَدِمَ الْمُهَاجِرُونَ الْأَوَّلُونَ الْمَدِينَةَ كَانَ يَؤُمُّهُمْ سَالِمٌ مَوْلٰى أَبِي حُذَيْفَةَ وَفِيهِمْ عُمَرُ وَأَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الْأَسَدِ. رَوَاهُ البُخَارِيّ

وعن ابن عمر قال: لما قدم المهاجرون الأولون المدينة كان يؤمهم سالم مولى أبي حذيفة وفيهم عمر وأبو سلمة بن عبد الأسد. رواه البخاري

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابن عمر سے فرماتے ہیں کہ جب پہلے مہاجر مدینہ میں آئے تو ان کی امامت ابو حذیفہ کے غلام سالم کرتے تھے حالانکہ ان میں حضرت عمر اور ابو سلمہ بن عبد الاسد ہوتے ۱؎(بخاری)

شرح حدیث

۱∞؎یعنی حضورصلی الله علیہ وسلم کی ہجرت سے پہلے بعض صحابہ مدینہ منورہ پہنچ گئے تھے جن میں حضرت عمر اور سیدنا ام سلمہ کے خاوند ابو سلمہ ابن اسد جیسے صحابہ بھی تھے لیکن چونکہ اس وقت ابو حذیفہ ابن عتبہ ابن ربیعہ کے فارسی غلام زیادہ قاری اور عالم بھی تھے اس لیئے وہ امام رہے۔ا س سے معلوم ہوا کہ افضل کے ہوتے مفضول امامت کرسکتا ہے۔ حضورصلی الله علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ قرآن چار شخصوں سے سیکھو، ابن مسعود،ابی ابن کعب،معاذ ابن جبل، سالم مولیٰ ابی حذیفہ(جامع صغیر سیوطی)

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 2 , حدیث نمبر: 1127