Main Icon

باب : امامت کا بیان - مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح - حدیث نمبر: 1119

نماز کا بیان - جلد 2

حدیث مبارکہ

عَنِ ابْن عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : «لِيُؤَذِّنْ لَكُمْ خِيَارُكُمْ ولِيَؤُمُّكُمْ قُرَّاؤُكُمْ» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ

عن ابن عباس قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : «ليؤذن لكم خياركم وليؤمكم قراؤكم» . رواه أبو داود

حدیث ترجمہ

روایت ہے حضرت ابن عباس سے فرماتے ہیں فرمایا رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے کہ اذان بہترین لوگ دیں اور تمہاری امامت قاری لوگ کریں ۱؎(ابوداؤد)

شرح حدیث

۱∞؎یعنی مؤذن متقی پرہیزگار اور نماز کے اوقات جاننے والا چاہیے کیونکہ لوگوں کی نمازیں،افطار،سحریاں کھانا پینا اس کی اذان سے وابستہ ہیں، نیز یہ اکثر اذان کے لیے اوپر چڑھتا ہے جس سے کبھی لوگوں کے گھروں میں نظر پڑ جاتی ہے۔خیال رہے کہ مؤذن میں عالم ہونے کی قید نہیں کیونکہ مؤذن دوسرے کے علم سے فائدہ اٹھا سکتا ہے مگر امام دوران نماز میں دوسرے کے علم سے استفادہ نہیں کرسکتا، دیکھو حضورصلی الله علیہ وسلم نے اذان کے لیے حضرت بلال کو منتخب فرمایا حالانکہ علماءصحابہ موجود تھے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح جلد: 2 , حدیث نمبر: 1119